جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے،رہبرِ مسلمین کا اہم خطاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیںIslam Times V Log 21-02-2026 اسلام ٹائمز وی لاگ
Iran’s Deterrence Power Explained | Rising Tensions, Geneva Talks & Middle East War Signals 2026
جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے،رہبرِ مسلمین کا اہم خطاب
مذاکرات کی آڑ میں بڑی جنگ کی تیاریاں؟؟
سفارت کاری کامیاب ہوگی یا تیسری جنگِ عظیم شروع؟
ہفتہ وار پروگرام : اسلام ٹائمزوی لاگ وی لاگر: سید عدنان زیدی پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
پروگرام کا خلاصہ:
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنیوا مذاکرات جاری ہیں، لیکن پس منظر میں عسکری نقل و حرکت، بحری مشقیں اور سخت بیانات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
اس وی لاگ میں ہم سادہ الفاظ میں سمجھائیں گے کہ “ڈیٹرنٹ طاقت” یا بازدار طاقت کیا ہوتی ہے اور ایران اس تصور کو اپنی قومی سلامتی کے لیے کیوں اہم سمجھتا ہے۔
کیا یہ طاقت جنگ کی تیاری ہے یا جنگ کو روکنے کی حکمت عملی؟
کیا سفارت کاری کامیاب ہوگی یا خطہ کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟
مکمل اور جامع تجزیہ دیکھیں اور اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
#Iran
#MiddleEastTensions
#Deterrence
#IranUSRelations
#GenevaTalks
#Geopolitics
#BreakingNews
#IranDefense
#GlobalPolitics
#StraitOfHormuz
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلام ٹائمز
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔