کراچی، سب انسپکٹر کے قتل، رینجرز پر فائرنگ میں ملوث ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد کی ہے، ملزم نے سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں تعینات سب انسپکٹر عامر علی کو شہید کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے گلشنِ حدید میں پولیس نے مقابلے کے بعد 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا ساتھی فرار ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد کی ہے، اِس ملزم نے سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں تعینات سب انسپکٹر عامر علی کو شہید کیا تھا۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیا گیا ملزم رینجرز پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں بھی ملوث رہا ہے۔
علاوہ ازیں صفورا چورنگی کے قریب بھی مقابلے کے بعد زخمی سمیت 3 ڈاکوؤں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان واردات کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ملزمان سے 3 پستول، موبائل فونز اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔