یومِ شہدا اور عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر ہفتہ کی علی الصبح ہزاروں افراد نے ڈھاکا میں واقع مرکزی شہید مینار پر 1952 کی لسانی تحریک کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

صدر اور وزیرِاعظم کی جانب سے رات 12 بج کر ایک منٹ اور 12 بج کر 8 منٹ پر پھولوں کی چادریں چڑھانے کے بعد شہید مینار کے احاطے کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور: علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت 45 بنگلہ دیشی طلبا کراچی پہنچ گئے

اس کے بعد سیاسی جماعتوں، سماجی و ثقافتی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے صبح تک پھول پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

شہید مینار کی جانب جانے والی سڑکوں پر طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ بنگلہ دیش نیشنل کیڈٹ کور اور بنگلہ دیش اسکاؤٹس کے ارکان نے نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔

A very moving commemoration of Amar Ekushey (Martyrs’ Day) & International #MotherLanguageDay in Dhaka yesterday.

A moment to recognize the sacrifice of Bangladeshi martyrs killed in 1952 while defending their language, and a celebration of linguistic diversity worldwide.????️ pic.twitter.com/MSgx1o44yp

— Ivo Freijsen (@IFreijsen) February 21, 2026

بیشتر شرکا نے روایتی ’پربھات پھیری‘ یعنی سوگ مارچ میں ننگے پاؤں شرکت کی جو احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے، شرکا قومی پرچم کے ساتھ بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

شہریوں اور خاندانوں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی، کئی والدین اپنے بچوں کو لسانی تحریک کی تاریخ اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرتے دکھائی دیے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی حکومت کا صحافتی آزادی کے تحفظ کا عزم

ایڈن محلہ کالج کی طالبہ تنزیلہ اختر نے کہا کہ لسانی تحریک کی اہمیت نصابی کتب تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔

ڈھاکہ کے علاقے  دھان منڈی سے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آئی 9 سالہ سنتھیا تمنا نے کہا کہ وہ ان لوگوں کو پھول پیش کرنے آئی ہیں جنہوں نے ہماری مادری زبان کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

راجباڑی سے آنے والے ایک شہری مطیع الرحمٰن نے ماضی کی حکومتوں کے دوران بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام ایسی صورتحال کی واپسی نہیں چاہتے۔

ریاستی رہنماؤں کی نصف شب حاضری

رات 12 بج کر ایک منٹ پر صدر محمد شہاب الدین نے سب سے پہلے شہید مینار پر پھول چڑھائے، اس کے بعد 12 بج کر 8 منٹ پر وزیرِاعظم طارق رحمان نے کابینہ ارکان کے ہمراہ حاضری دی۔ بعد ازاں حکمران جماعت بی این پی اور ضیا  خاندان کی جانب سے بھی چادریں چڑھائی گئیں۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد کے رہنماؤں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ میں چیف وہپ اور این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام بھی شامل تھے۔

وسیع سیاسی و سماجی شرکت

نیشنل سٹیزن پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، امار بنگلہ دیش پارٹی، جاتیہ پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش اور جاتیہ سماج تنترک سمیت متعدد سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کے نمائندوں نے طلبا تنظیموں اور سماجی و ثقافتی پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر دن کی مناسبت سے تقریبات میں حصہ لیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی نئی کابینہ نے حلف اٹھالیا، وزیراعظم طارق رحمان نے 5 اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں

یونیورسٹی آف ڈھاکہ اور جگن ناتھ یونیورسٹی سمیت تعلیمی اداروں نے بھی الگ الگ پروگراموں اور پھول چڑھانے کی تقریبات کا انعقاد کیا۔

واضح رہے کہ ہر سال 21 فروری کو عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے تاکہ لسانی حقوق کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے، جن کی بنیاد 1952 کی بنگلہ دیش کی لسانی تحریک میں پیوست ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش پارلیمنٹ پرچم شہید مینار کمیونسٹ پارٹی لسانی تحریک محمد شہاب الدین ناہید اسلام نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ، نیشنل کیڈٹ کور وزیرِاعظم طارق رحمان یومِ مادری زبان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پارلیمنٹ شہید مینار کمیونسٹ پارٹی لسانی تحریک محمد شہاب الدین ناہید اسلام نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نیشنل کیڈٹ کور یوم مادری زبان لسانی تحریک شہید مینار بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی