City 42:
2026-07-24@05:08:09 GMT

صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

 (ویب ڈیسک)مفتی منیب الرحمن نے صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کا اعلان کردیا۔

 مفتی منیب الرحمن کے اعلان کے مطابق صدقہ فطر اور فدیے کی کم از کم مقدار 300 روپے فی کس ہے، اہلِ ثروت اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ ، فدیہ اور کفّارہ اداکریں ، انہوں نے فطرہ ،فدیۂ صوم اور کفارۂ صوم کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نصاب درج ذیل شرح کے مطابق ہوں گے ۔

 ٭گندم کا آٹا 2 کلو(چکی والا) : فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :300روپے

پنجاب: لگژری سرکاری گاڑیاں اور لامحدود پیٹرول، افسر شاہی کیلئے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری

 ٭جَو (4کلو): فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ : 1160روپے

 ٭کھجور(4کلو) : فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :2800روپے

 ٭کشمش عمدہ ( 4کلو): فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :7200روپے

 روزہ توڑنے کا کفارہ :60مساکین کو 2 وقت کا کھانا کھلانا ہے ، جس کا نصاب درج ذیل ہے :

 ٭گندم کا آٹا 2 کلو(چکی والا) :18,000روپے

 ٭جَو (4 ):69,600روپے

 ٭کھجور (4کلو) : 168,000روپے

ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام

 ٭کشمش ( 4کلو):4,32,000روپے

 انہوں نے کہا کہ   یہ فطرہ، فدیہ اور کفارات کی کم از کم مقدار ہے، ہم نے تمام اجناس کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ جن خوش نصیب افراد کو اللہ تعالیٰ نے وافرنعمتِ دولت سے نوازا ہے ، وہ اپنی حیثیت کے مطابق فطرہ ادا کریں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’کوئی خوش دلی سے زیادہ دے ،تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے،(البقرہ:184) ‘‘۔

 فدیہ دائمی مریض یا ایسے انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے ، جونہ روزہ رکھنے پر قادر ہوں اور بظاہر اُن کی بحالی کے آثار بھی نہ ہوں۔ عارضی مریض یا مسافر جو مرض یا سفر کے عذر کی بناپر روزہ نہ رکھیں ،ان پر صحت یاب ہونے یا سفر سے واپسی پر اپنی سہولت کے مطابق قضا ہے۔فدیہ اس کا بدل نہیں ہے۔

محکمہ صحت کا اہم فیصلہ، چھٹیوں کے لیے نئے احکامات جاری

  جوشخص روزہ رکھ کر کسی عذر کے بغیر توڑ دے ، اس پر کفارہ ہے اوروہ 60 مسلسل روزے اورایک روزے کی قضا ہے ، اگر یہ روزہ رکھنے پر قدرت نہ رکھتاہوتوپھر مالی کفارہ ہے۔

 مندرجہ بالا اجناس کے دام مارکیٹ میں بدلتے رہتے ہیں اور بعض صورتوں میں جنس کی کوالٹی کے اعتبار سے بھی قیمت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق