حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے
دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے، ایران کیخلاف ممکنہ آپریشنز کیلئے تیار حالت میں موجود ہوگا
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریٔر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیازی سے بڑھ رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس کیریٔر اسٹرائیک گروپ کو مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔امریکی دفاعی حکام کے بقول توقع ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے جس کے بعد یہ ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار حالت میں موجود ہوگا۔حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس تعیناتی کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کی جاری کی گئی تصاویر میں بحیرۂ روم میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف؍اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیارے کی پرواز بھی دکھائی گئی ہے جو امریکی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: طیارہ بردار بحری جہاز امریکی بحری ایران کے ا ر فورڈ ایس ایس رہا ہے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔