برآمدات کے فروغ کے لیے فعال ٹریڈ ڈپلومیسی ناگزیر ہے: سردار طاہر محمود
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
برآمدات کے فروغ کے لیے فعال ٹریڈ ڈپلومیسی ناگزیر ہے: سردار طاہر محمود WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی عالمی مسابقت کو بڑھانے، برآمدات کو متنوع بنانے اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو تقویت دینے کے لیے فعال تجارتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ایک جامع قومی برآمدی حکمت عملی وضع کرے۔
ہفتہ کو یہاں برآمد کنندگان کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا برآمدی شعبہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے تاہم ساختی رکاوٹیں، غیر معمولی پیداواری لاگت، متضاد پالیسیاں، اور مارکیٹ تک محدود رسائی پائیدار ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی سفارت کاری کو پاکستان کی اقتصادی پالیسی کا مرکزی ستون بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارت خانوں اور کمرشل اتاشیوں کو مارکیٹ کے مواقع کی نشاندہی کرنے، نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے، B2B رابطوں کو آسان بنانے اور بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینے میں زیادہ متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو معاشی مقاصد سے ہم آہنگ کرے تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ترجیحی تجارتی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی معیشتیں جارحانہ طور پر برآمدات میں ترقی کے ماڈلز کی پیروی کر رہی ہیں، پاکستان کو اپنی عالمی تجارتی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے اسی طرح کا اسٹریٹجک طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرتے ہوئے افریقہ، آسیان، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں غیر روایتی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو فعال طور پر تلاش کرنا چاہیے۔ تجارتی نمائشیں، سنگل کنٹری نمائشیں، اور کاروباری وفود کو چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر منظم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں متواتر تبدیلیاں برآمدی مسابقت کو کمزور کرتی ہیں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔
انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد چیمبر حکومت، سفارتی مشنز اور تجارتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ایک حقیقت پسندانہ اور ترقی پر مبنی برآمدی حکمت عملی وضع کر کے اس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟ صدقۂ فطر اور فدیہ و کفارۂ صوم کی کم از کم مقدار کتنی ہے؟ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد جاں بحق نواز شریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا: رانا ثناءاللہ ایران پر حملہ؟ دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ بہت قریب پہنچ گیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔