متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اپیلوں پر نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
تحریری حکم نامے میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف اپیلوں اور ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف نے سماعت کا 2 صفحات کا تحریری آرڈر جاری کر دیا۔
عدالتِ عالیہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے 24 جنوری کو سزا سنانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی
حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ قانونی طور پر فیصلہ درست نہیں، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار آفس کیس کی پیپر بکس مرتب کرے، کیس کی پیپر بکس بننے کے بعد سماعت کے لیے کیس مقرر کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستیں جلد مقرر کرنے کی تاریخ نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی درخواستیں جلد مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔