بنوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، 2 فوجی شہید
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
آج بنوں ضلع میں فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران کی گئی، جس میں خوارج اور ایک خودکش حملہ آور کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مذکورہ کارروائی کے دوران ایک خودکش حملہ آور کو بروقت روکا گیا، جس سے بنوں شہر میں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں خفیہ اطلاع پر مبنی کامیاب آپریشن، خوارج کے 2 اہم کمانڈر ہلاک
فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ تاہم، خوارج نے مایوسی میں اپنی بارودی گاڑی فورسز کی گاڑیوں سے ٹکرانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔
ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کی عمر 43 سال جبکہ 28 سالہ سپاہی کرامت شاہ کا تعلق ضلع پشاور سے تھا۔
مزید پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 22 خارجی دہشتگرد ہلاک
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے مطابق خوارج افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو رمضان کے مقدس مہینے کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
افغان طالبان حکومت بار بار افغان سرزمین سے دہشتگردانہ کارروائیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے، پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی پس و پیش کے بغیر، خوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہوں۔
مزید پڑھیں: بنوں میں ڈی پی او شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ، 6 پولیس اہلکار زخمی
وفاقی اپیکس کمیٹی کی منظوری سے قومی ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام ویژن کے تحت انسداد دہشت گردی مہم مکمل شدت سے جاری رہے گی تاکہ بیرونی مدد یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر افسران کی قربانی پاکستان کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کی نشانی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر اسلام افغانستان بنوں خوارج دہشتگرد رمضان سپاہی کرامت شاہ سیکیورٹی فورسز لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز مانسہرہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر اسلام افغانستان خوارج دہشتگرد سپاہی کرامت شاہ سیکیورٹی فورسز سیکیورٹی فورسز خوارج کے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز