لاہور:

لاکھوں روپے مالیت کی ٹکٹیں خریدنے کے باوجود ڈھائی سو سے زائد عمرہ زائرین پہلے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پھر مختلف ہوٹلوں میں خوار ہونے لگے۔

سعودی ایئر لائن نے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد اچانک پرواز منسوخ کر دی۔ عمرہ زائرین احرام باندھ کر جانے کے انتظار میں مگر متعلقہ ایئر لائن کوئی جواب نہیں دے رہی۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز سعودی ایئر لائن سے عمرہ کے لیے جانے والے 250 زائد عمرہ زائرین تین دن سے لاہور کے مختلف ہوٹلوں میں خوار ہونے پر مجبور ہوگئے، کوئی پرسان حال نہیں۔ عمرہ زاہدین نے ہوٹل کے اندر ہی احتجاج شروع کر دیا جبکہ متعلقہ ایئر لائن سے رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔

عمرہ زائرین نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو لاہور سے سعودی ایئر لائن کے ذریعے انہوں نے جدہ جانا تھا، حرم شریف میں اور مدینہ شریف میں ان کی بکنگ تھی، تین دن ہوگئے۔ عین وقت پر پرواز کو یہ کہہ کر منسوخ کر دیا گیا کہ جہاز میں خرابی پیدا ہوگئی۔

عمرہ زائرین نے پہلے ایئرپورٹ پر سعودی ایئر لائن حکام سے بات چیت کی تو ان کو ہوٹل میں بتایا گیا کہ کل صبح لے کر چلے جائیں گے مگر وہ کل آج تک نہیں آئی۔ پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کو بھی انہوں نے کئی بار کمپلینٹ کی لیکن ان کی طرف سے بھی کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

عمرہ زائرین کا کہنا ہے کہ خواتین بچے بزرگ بھی شامل ہیں، ہمارا کیا قصور ہے، لاکھوں روپے کی ٹکٹ لی اور آج تین دن ہوگئے ہیں، یہ ہمیں لے جانے کے لیے تیار ہی نہیں، کوئی یہ بتانے کو بھی تیار نہیں کہ فلائٹ کب روانہ ہوگی۔ ہمارا سارا شیڈول خراب ہو چکا ہے، مدینہ شریف میں بھی اور مکہ معظمہ میں بھی۔ ہماری بکنگ تھی، کچھ لوگ گروپ کی صورت میں عمرہ کرنے جا رہے تھے اور ان کا بھی عمرہ خراب ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تین دن بعد پہنچیں گے تو وہاں پر ہوٹل ہمیں کیسے ملے گا، وہاں کی ہوٹل انتظامیہ نے کہہ دیا ہے کہ مزید بکنگ نہیں کیونکہ رمضان المبارک کی وجہ سے زائرین کا رش بہت بڑھ چکا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ایئر لائن کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہمیں بروقت جدہ پہنچایا جائے تاکہ ہم عمرے کی ادائیگی با آسانی کر سکیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سعودی ایئر لائن انہوں نے تین دن

پڑھیں:

سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ

(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ