Express News:
2026-06-02@22:19:16 GMT

راولپنڈی: ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے سرکاری اہلکار جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

راولپنڈی میں تھانہ چونترہ کی حدود میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے اہم ادارے کا سرکاری اہلکار جاں بحق ہوگیا، موٹرسائیکل پر سوار تین ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، پولیس نے ڈکیتی کے دوران قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ مقتول محمد ادیب کے بھائی محمد حسین کی درخواست پرچونترہ پولیس نے ڈکیتی وقتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ بڑا بھائی محمد ادیب سرکاری ملازم ہے جو چھٹی پرگھر  آرہا تھا، بھائی نے فون کیا کہ چکری انٹرچینج پہنچ رہا ہوں موٹرسائیکل پر لینے آجاؤ۔

ایف آئی آر کے مطابق بھائی چکری اڈے پر پہنچا تو اسکا دوست رحمت خان ساتھ تھا، بھائی نے کہا کہ میں رحمت کو سہال چھوڑ کر آتا ہوں تم یہیں رکو، کافی دیر  تک بھائی واپس نہ آیا تو اسکے نمبر پر کال کی رحمت نے فون اٹینڈ کرکے واقعہ بارے بتایا، کالج کے قریب واصل ہسپتال کے سامنے پہنچا تو بھائی زخمی اور قریب رحمت کھڑا تھا۔

رحمت نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار تین لڑکوں نے ادیب کو روکنے کی کوشش کی تھی، ادیب کے نہ رکنے پر ایک نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

مدعی کے مطابق نامعلوم ملزمان نے بھائی کو ڈکیتی کی نیت سے روکا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا، واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ واقع کا مقدمہ ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا ہے، ملزمان کی شناخت کے لیے مختلف وسائل استعمال کررہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار