امریکا اور ایران آمنے سامنے: ٹرمپ کی فوجی تیاریوں اور سخت دھمکیوں کے بعد خطہ بڑی جنگ کے دہانے پرپہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے ’ثبوت‘ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
تہران کا مؤقف اور اعدادوشمار پر تنازع
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا شکار‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شواہد پیش کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی فوجی تیاری اور سیاسی خطرات
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ میں مہنگائی اور معاشی مسائل اولین ترجیح ہیں۔
ایران کا ردعمل اور خطے کی صورتحال
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا۔ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ادھر ایران کے مختلف شہروں میں ہلاک شدگان کے لواحقین نے اپنے طور پر یادگاری تقریبات منعقد کیں، جہاں روایتی سوگ کے بجائے علامتی مزاحمت اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔ بعض جامعات میں طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے داخلی کشیدگی میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔ ایسے میں سفارتی حل کی کوششیں اور عالمی دباؤ ہی خطے کو ایک نئی جنگ سے بچا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم