سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ڈی آئی خان میں دہشتگردی کا خدشہ ٹل گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
احمد منصور:سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا، کم عمر لڑکی کو خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کا منصوبہ بے ناکام ہوگیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تفتیش میں انکشاف، سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے ذہن سازی کی جا رہی تھی. سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ مقامی اور سرحد پار فتنہ الخوارج ہینڈلرز کے درمیان رابطوں کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔
اسٹرابری کی مانگ بڑھنے سے قیمتوں کو بھی پرلگ گئے
سیکیورٹی حکام کے مطابق فتنہ الخوارج نوجوان لڑکوں کے بعد اب کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، مقامی عمائدین نے خودکش حملے اسلام اور انسانی اقدار کے سراسر خلاف قرار دیئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بروقت کارروائی سے بڑے جانی نقصان اور تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا، حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر نوجوان نسل کو گمراہ کر کے معاشرتی استحکام کو نشانہ بنا رہے ہیں-
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔