غربت میں اضافے کے اعداد و شمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
وزارتِ خزانہ نے غربت میں اضافے کے اعداد و شمار جاری کر دیے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ 19-2018ء میں غربت 21 عشاریہ 9 فیصد تھی جو 25-2024ء میں بڑھ کر 28 عشاریہ 9 فیصد تک پہنچ گئی، اسے پاکستان کو درپیش بحرانوں کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019ء کے بعد کورونا وائرس، عالمی اجناس کی مہنگائی اور جغرافیائی کشیدگی نے پاکستانی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں نے دیہی علاقوں میں روزگار، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تعاون سے 3 اصلاحاتی پروگرام کیے، جو طویل مدتی فوائد کے لیے قلیل مدتی دباؤ کا سبب بنے۔ دیہات ماحولیاتی بحرانوں اور بڑھتی لاگت جبکہ شہر مہنگائی اور سست معیشت سے متاثر ہوئے۔
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں غربت کا مقابلہ سماجی تحفظ، صوبائی اخراجات اور ہدف شدہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔