رمضان المبارک میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے ماہ رمضان المبارک کے دوران ذخیرہ اندوزی اورمنافع خوری کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔
پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں متعلقہ حکام کو رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ مہنگائی روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے احکامات دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بنچ نے محمدحمدان ایڈوکیٹ نے درخواست پر پرسماعت کی جس میں چیف سیکرٹری، محکمہ فوڈ حکام اور کمشنر پشاور کو بھی فریق بنایا گیاہے۔
رٹ کے مطابق رمضان میں خودساختہ مہنگائی کیلئے ذخیرہ اندوز اور منافع خور سرگرم ہوجاتے ہیں اوریہ ایک معمول بن چکا ہے تاہم ان پر کوئی چیک نہیں ہوتا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ آٹا، پھل ودیگر اشیائےخوردونوش کی قیمتیں ذخیرہ اندوزی کیوجہ سے بڑھ جاتی ہیں اور مہنگائی کیوجہ سے غریب وکم آمدن والے لوگ زیادہ متاثرہوتے ہیں۔
درخواست گزار نے کہا کہ آٹا بحران وذخیرہ اندوزی سے دیگر مسائل بھی جنم لیتے ہیں لہذا منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کیلئے اقدامات کرنے اور اس ضمن میں صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ ، فوڈ حکام ودیگر متعلقہ اداروں کو احکامات دیئے جائیں تاکہ وہ اس کی روک تھام یقینی بنائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی ہے کہ رمضان کے مہینے میں غریب ومتوسط طبقوں کو ایمرجنسی بنیادوں پر سپورٹ فراہم کرنے کیلئے بھی حکومت و متعلقہ اداروں کو احکامات دیئے جائیں۔
عدالت نے ابتدائی دلائل کےبعد فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔