صبا قمر نے ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والا پُراسرار واقعہ سنا دیا؛ مداح ہکّا بکّا رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
دنیا میں بھانت بھانت کی مخلوق بستی ہیں اور ماورائے عقل واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو انسانوں کو ششدر اور چونکا کر رکھ دیتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ صبا قمر کے ساتھ ہوا۔
منجھی ہوئی اداکارہ صبا قمر نے نجی ٹی وی پروگرام میں ڈراما سیٹ پر پیش آنے والا ایک ایسا پُراسرار واقعہ سنایا جس نے نہ صرف شوٹنگ ٹیم کو خوفزدہ کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی۔
اداکارہ صبا قمر نے بتایا کہ یہ واقعہ ڈرامہ سیریل معمہ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا جب ان کے میک اپ آرٹسٹ وضو کے لیے گئے تو اچانک انھیں کسی نامعلوم طاقت نے عقب سے تھپڑ مارا۔
اداکارہ کے بقول حیران کن بات یہ تھی کہ اُس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور نہ ہی میک اپ آرٹسٹ کو کچھ دکھائی دیا۔
صبا قمر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سیٹ پر خوف کی فضا قائم ہو گئی اور کئی افراد نے اسے جنات سے جڑا کوئی معاملہ قرار دیا۔
اداکارہ نے کہا کہ ممکن ہے شوٹنگ کے دوران کسی ایسی جگہ مداخلت ہوگئی ہو جو ہم انسانوں کے لیے موزوں نہ تھی۔
صبا قمر نے واضح کیا کہ وہ غیر ماورائی مخلوقات کے وجود کو یکسر رد نہیں کرتیں تاہم خوف کے باوجود شوٹنگ مکمل کی کیونکہ ڈرامے کا بڑا حصہ ریکارڈ ہو چکا تھا۔
ان کے بقول زندگی کے تجربات نے انھیں اس حد تک مضبوط بنا دیا ہے کہ اب ایسی باتیں انہیں کام سے روک نہیں سکتیں۔
صبا قمر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ افراد اسے محض اتفاق قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی صارفین اسے دلچسپ اور حیران کن واقعہ کہہ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔