اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ قوم پرست جماعت اور پیپلز پارٹی کا رویہ ایک جیسا ہے۔
سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا معاملہ آئین میں طے شدہ ہے اور اس پر بات چیت ہو سکتی ہے، لیکن اس پر کسی کو غدار قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ اسمبلی میں جو رویہ قوم پرست جماعت اور پیپلز پارٹی نے اپنایا، وہ ایک جیسا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ صوبے میں موجود سندھ حکومت صرف بانسری بجا رہی ہے، جبکہ گورنر نے کراچی کے مستقبل پر بات کی تو اس میں کچھ غلط نہیں۔ سینئر وزیر نے ایوان میں تعصب پر مبنی باتیں کیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گورنر ہاؤس میں کراچی کی بات کا مطلب دراصل سندھ کے مستقبل سے متعلق ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ بدترین حکمرانی کے باعث کراچی ایک مشکل صورت حال میں ہے، اور ہر کسی کو شہر کی فکر کرنی چاہیے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے شہر کے مستقبل پر تشویش ظاہر کی گئی، لیکن پیپلز پارٹی گل پلازا کے معاملے پر اپنا غصہ نکال رہی ہے، اور جھوٹ پر اللہ کی لعنت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے گورنروں کے حوالے سے غیر ضروری تنقید ہوتی ہے۔ پنجاب میں گورنر ہاؤس پر جئے بھٹو کے نعرے لگے، لیکن سندھ میں جئے متحدہ کے نعرے نہیں لگے۔ کے پی کے میں پیپلز پارٹی کے نعرے لگتے رہے، لیکن سندھ کے عوام کی امید بننے والے گورنر کے خلاف ردعمل سامنے آیا۔
علی خورشیدی نے پیپلز پارٹی پر زور دیا کہ اسے وسیع النظر رویہ اپنانا چاہیے اور اپنی قومی جماعت ہونے کی حیثیت کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام گورنر ہاؤس کراچی میں ہوا، وہ گزشتہ 75 سال میں نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علی خورشیدی نے پیپلز پارٹی نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی