کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے کے ایم سی نے پولو گراؤنڈ میں 300 دکانوں کا انتظام کردیا۔حکام کے مطابق دکانداروں کےلیے ٹینٹ لگا کر عارضی دکانیں بنائی گئی ہیں، جہاں کے ایم سی کی جانب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ دکانداروں اور خریداروں کے لیے پانی اور بیت الخلا کا انتظام بھی ہے، مارکیٹ کی سیکیورٹی کے لیے 50 سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے۔میئر کراچی اور وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ نے متاثرین گل پلازہ کے لیے بنائے گئے عارضی اسٹالرز کا جائزہ لیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے دو تین مختلف مقامات پر متاثرین کو فری جگہیں فراہم کی ہیں۔ عارضی اسٹالز اور گراؤنڈ میں انتظامات کرکے متاثرین کو کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران شاپنگ کے لیے گل پلازا کے متاثرین کے لیے ساڑھے تین سو دکانوں کے اسٹالز عارضی طور پر تیار کر دیے گئے ہیں،عارضی دکانیں تعمیراتی پروسیس مکمل ہونے تک متاثرین کو کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کریں گی۔دوسری جانب سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کا شہریوں سے معلومات کے حصول کے لیے رجوع کرنے کا آج آخری روز ہے ۔ذرائع کے مطابق اب تک متعدد شہریوں نے بذریعہ خطوط،ای میل کمیشن سے رابطہ کیا ہے ،کمیشن معلومات کا ابتدائی جائزہ لینےکےبعد شہریوں کو طلب کرنےکا فیصلہ کرےگا۔جوڈیشل کمیشن نے شہریوں کی جانب سےمعلومات کی فراہمی کےلئےای میل ایڈریس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گل پلازہ کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر