سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کیلئے 300 دکانوں کا انتظام کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے کے ایم سی نے پولو گراؤنڈ میں 300 دکانوں کا انتظام کردیا۔حکام کے مطابق دکانداروں کےلیے ٹینٹ لگا کر عارضی دکانیں بنائی گئی ہیں، جہاں کے ایم سی کی جانب سے بجلی فراہم کی جائے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ دکانداروں اور خریداروں کے لیے پانی اور بیت الخلا کا انتظام بھی ہے، مارکیٹ کی سیکیورٹی کے لیے 50 سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے۔میئر کراچی اور وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ نے متاثرین گل پلازہ کے لیے بنائے گئے عارضی اسٹالرز کا جائزہ لیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے دو تین مختلف مقامات پر متاثرین کو فری جگہیں فراہم کی ہیں۔ عارضی اسٹالز اور گراؤنڈ میں انتظامات کرکے متاثرین کو کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران شاپنگ کے لیے گل پلازا کے متاثرین کے لیے ساڑھے تین سو دکانوں کے اسٹالز عارضی طور پر تیار کر دیے گئے ہیں،عارضی دکانیں تعمیراتی پروسیس مکمل ہونے تک متاثرین کو کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کریں گی۔دوسری جانب سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کا شہریوں سے معلومات کے حصول کے لیے رجوع کرنے کا آج آخری روز ہے ۔ذرائع کے مطابق اب تک متعدد شہریوں نے بذریعہ خطوط،ای میل کمیشن سے رابطہ کیا ہے ،کمیشن معلومات کا ابتدائی جائزہ لینےکےبعد شہریوں کو طلب کرنےکا فیصلہ کرےگا۔جوڈیشل کمیشن نے شہریوں کی جانب سےمعلومات کی فراہمی کےلئےای میل ایڈریس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔