قوم پرست جماعت اور پیپلز پارٹی کا رویہ ایک جیسا ہے، علی خورشیدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
فائل فوٹو
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ قوم پرست جماعت اور پیپلز پارٹی کا رویہ ایک جیسا ہے۔
سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق آئین میں لکھا ہے۔ اس پربات چیت ہوسکتی ہے لیکن اس پر کسی کو غدار نہیں کہہ سکتے، قوم پرست جماعت اور پیپلز پارٹی کا رویہ ایک جیسا ہے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرار داد پیش کردی۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہے، صوبے میں سندھ حکومت بانسری بجا رہی ہے، گورنر نے سندھ کی بات کی تو کیا یہ گناہ ہے؟
اُن کا کہنا تھا کہ سینئر وزیر نے کل ایوان میں بات کی، تعصب میں نہ جانے کیا کیا باتیں کیں، گورنر ہاؤس میں کراچی کے مستقبل کی بات ہو رہی تھی، اس کا مطلب سندھ کا مستقبل ہے۔
علی خورشیدی نے یہ بھی کہا کہ کرپٹ ترین حکمرانی میں بدترین شہر کراچی ہوگیا ہے، کسی نہ کسی کو کراچی کی فکر کرنی ہے، ہم نے کراچی کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو فکر تھی اس لئے کراچی کی بات کی، گل پلازا کا غصہ پیپلز پارٹی اس طرح نکال رہی ہے، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک کے تمام گورنروں سے بھاری کامران ٹیسوری ہے، گورنر ہاؤس پنجاب میں جئے بھٹو کے نعرے لگے، گورنر ہاؤس سندھ میں جیے متحدہ کے نعرے نہیں لگے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کے پی کے گورنر ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے نعرے لگ رہے ہیں، ان سے ایک گورنر سندھ برداشت نہیں ہورہا کیونکہ وہ سندھ کے عوام کی امید بنتا جار ہا ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، پیپلز پارٹی اپنا قومی جماعت ہونے کا ثبوت دے، جو کام گورنر ہاؤس کراچی میں ہوا 75 سال میں نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی خورشیدی نے سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی گورنر ہاو س نے کہا کہ کی بات بات کی
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔