حکومت نوجوانوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے، فاطمہ موسوی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
نگراں مشیر برائے سماجی بہبود، بہبودِ آبادی، ترقیِ نسواں، تحفظِ اطفال، انسانی حقوق و امورِ نوجوانان گلگت بلتستان، سیدہ فاطمہ موسوی نے اسلام آباد میں مقیم گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے اہم ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ نگراں مشیر برائے سماجی بہبود، بہبودِ آبادی، ترقیِ نسواں، تحفظِ اطفال، انسانی حقوق و امورِ نوجوانان گلگت بلتستان، سیدہ فاطمہ موسوی نے اسلام آباد میں مقیم گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران نوجوانوں کو درپیش تعلیمی، پیشہ ورانہ اور دیگر سماجی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ نوجوانوں نے اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں، جنہیں مشیر نے توجہ سے سنا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ سیدہ فاطمہ موسوی نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی تعلیم، رہنمائی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم گلگت بلتستان کے طلبہ و نوجوانوں کے ساتھ مستقل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ ان کے مسائل بروقت حل کیے جا سکیں اور انہیں درکار سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ملاقات کے اختتام پر نوجوانوں نے نگراں مشیر کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان فاطمہ موسوی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟