حفیظ الرحمن کے بیان پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے، اشرف صدا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
نون لیگ گلگت بلتستان کے ترجمان نے کہا کہ اس گفتگو کا مقصد ہرگز غذر، نگر یا ہنزہ کے غیور و محب وطن عوام پر کوئی الزام عائد کرنا نہیں تھا بلکہ چند محدود نظریاتی رجحانات کی نشاندہی کرنا تھا جن میں کمی لانے کے لیے بہتر حکمرانی، ترقیاتی عمل میں تیزی، اور مثبت پالیسی نہایت ضروری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی ترجمان پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان و سابق چیئرمین قائمہ کمیٹی جی بی کونسل محمد اشرف صدا نے کہا ہے کہ حکومت اور حساس قومی اداروں کے پاس ہر شخص کا مکمل زائچہ موجود ہے۔ اینٹی سٹیٹ کون ہے پرو سٹیٹ کون ہے، واقفان حال کو بخوبی علم ہے ۔حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعلیٰ اور صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کی ایک جامع گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر سوشل میڈیا پر چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا جا رہا ہے جو کہ غیر ضروری ابہام پیدا کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس گفتگو کا مقصد ہرگز غذر، نگر یا ہنزہ کے غیور و محب وطن عوام پر کوئی الزام عائد کرنا نہیں تھا بلکہ چند محدود نظریاتی رجحانات کی نشاندہی کرنا تھا جن میں کمی لانے کے لیے بہتر حکمرانی، ترقیاتی عمل میں تیزی، اور مثبت پالیسی نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں ان اضلاع میں مختلف عوامی فلاح کے کئی اہم منصوبوں کی بھرپور وکالت کی اور فوری آغاز کا مطالبہ بھی کیا۔
محمد اشرف صدا نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سو فیصد آبادی محب وطن اور ریاست پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی رکھتی ہے۔ اس خطے کے عوام نے ہر دور میں قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور قومی دفاع، ترقی اور یکجہتی کے ہر مرحلے پر تاریخ ساز اور بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ غذر، نگر، ہنزہ، گلگت، اسکردو، دیامر اور دیگر اضلاع کے عوام مملکت خداداد پاکستان کے قومی دھارے کا اٹل اور مضبوط حصہ ہیں اور ان کی حب الوطنی کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ حفیظ الرحمان کی گفتگو سے نہ کوئی محب وطن بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی غدار۔ گلگت بلتستان میں ہر شخص کی وفاداری اور نظریاتی رجحان حکومت اوراہم قومی اداروں کے علم میں ہیں۔ جو لوگ محب وطن ہیں ان کی وابستگی سب کے سامنے ہے اور جو محدود و قلیل طبقہ ملک کے خلاف سوچ رکھتا ہے، ان کے عزائم اور مستقبل کے ارادوں سے حکومت اور قومی ادارے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے گفتگو کے ایک حصے کو ایڈٹ کر کے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور چور کی داڑھی میں تنکا کے مترادف ہے۔ سنجیدہ سیاسی روایت کا تقاضا ہے کہ بات کو حقیقی اور مکمل تناظر میں سنا اور سمجھا جائے۔ حافظ حفیظ الرحمان نے ہمیشہ ریاست کی مظبوطی، وفاق اور گلگت بلتستان کے درمیان ہم آہنگی، ترقیاتی منصوبوں کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت مواقع فراہم کرنے کی نہ صرف بات کی ہے بلکہ تاریخی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد قومی وحدت اور استحکام اور گلگت بلتستان روشن مستقبل کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے انکی کاوشیں کسی بھی نام نہاد و خود ساختہ قوم پرست سے ہزار گنا زیادہ ہے۔
اشرف صدا نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں چند محدود آوازیں مختلف نظریات پیش کرتی ہیں تو اس کا حل عوامی مسائل کے خاتمے، شفاف طرز حکمرانی اور مؤثر پالیسی سازی میں ہے اور اسی پہلو پر حفیظ الرحمان گفتگو کر رہے تھے۔ گلگت بلتستان کے باشعور عوام منفی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے روشن مسقبل اور ریاست پاکستان پر مکمل اعتماد پہ یقین رکھتے ہیں۔ اشرف صدا نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان قومی سلامتی، ریاستی استحکام، گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت کے عزم کے ساتھ میدان عمل میں ہے۔ ہم تمام سیاسی، مذہبی، قومی، صحافتی اور سوشل قوتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند اور مخصوص سوچ و فکر کے تحت کسی بھی سیاسی شخصیت کو متنازعہ بنانے سے گریز کریں۔ فروعی و نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے کے اتحاد، وقار اور ترقی کو مقدم رکھیں کیونکہ گلگت بلتستان کی پہچان حب الوطنی، امن، ترقی اور قومی یکجہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کی گلگت بلتستان کے اشرف صدا نے کہا حفیظ الرحمان نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔