امریکی فوج نے ایک بار پھر بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کشتی بحرالکاہل کے ایک ایسے حصے میں سرگرم تھی جہاں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔

فوجی حکام نے بتایا کہ نشانہ بننے والی کشتی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھی اور مبینہ طور پر اسے ایسی تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں جنہیں امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کشتی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ امریکی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات آپریشنز تیزی سے جاری ہیں اور اسی دوران ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سدرن کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کی جانب سے کی گئی۔ جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل روکنا اور مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بحرالکاہل میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف منشیات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ گروہوں کی مالی معاونت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں میں جانی نقصان پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی فوج منشیات کی

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک