امریکہ نے قطر اور بحرین سے سینکڑوں فوجیوں کو نکال لیا، نیویارک ٹائمز
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق اس انخلاء کو ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک احتیاطی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ خدشہ ہے کہ تہران خطے میں موجود امریکی افواج پر جوابی حملہ کر سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ نے قطر اور بحرین سے سینکڑوں فوجیوں کو نکال لیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو پینٹاگون کے گمنام ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قطر کے العدید ایئر بیس سے سینکڑوں امریکی فوجیوں کو نکال لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحرین سے بھی فورسز کا انخلا کیا گیا ہے، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکز واقع ہے۔ امریکی افواج اب بھی عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات کے اڈوں پر تعینات ہیں۔ اس انخلاء کو ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک احتیاطی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ خدشہ ہے کہ تہران خطے میں موجود امریکی افواج پر جوابی حملہ کر سکتا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM)، جس کے دائرہ اختیار میں ایران اور اس کے گردونواح کا بڑا علاقہ آتا ہے، نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے سربراہ نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو "خطے میں دشمن قوت کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے اور کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل اور براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر ہو گی۔" یاد رہے کہ العدید ایئربیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں 10,000 اہلکار تعینات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔