اسلام ٹائمز: اسٹریٹجک دستاویزات کے مطابق امریکیوں کے پاس مشنوں پر تعیناتی کے لیے چھ طیارہ بردار بحری جہاز ہمیشہ تیار ہونے چاہئیں۔ اگلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اپنی اچھی جنگی صلاحیتوں کے باوجود دنیا میں امریکی طاقت کا علامتی پہلو بھی دکھاتے ہیں، یعنی امریکی ان بیڑے بھیج کر حریفوں کو اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

امریکی فوج میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی روانگی معمول کی کاروائی ہے، لیکن بعض اوقات یہ فقط نفسیاتی آپریشن کا ہی ایک پہلو ہوتاہے۔  ابراہم لنکن کی قیادت میں ٹاسک فورس کو سینٹ کام کمانڈ ایریا میں بھیجنے کے بعد بہت شور مچایا گیا کہ امریکہ ایران پر ضرور حملہ کرے گا۔ اس کے بعد امریکیوں نے اعلان کیا کہ وہ اس علاقے میں دو دیگر ٹاسک فورسز بھیجیں گے، ایک کی قیادت جارج ڈبلیو بش نامی بحری جہاز کر رہا ہے اور دوسری کی قیادت جیرالڈ فورڈ ، یہ امریکہ کا جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔

لیکن کیا کسی علاقے میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی روانگی واقعی اس علاقے میں ایک حتمی فوجی کارروائی کو ظاہر کرتی ہے؟ امریکی بحری بیڑے ہمیشہ جنگی تیاری کو برقرار رکھنے یا دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی فوج کے یونٹوں کی مدد کے لیے سال بھر مشن انجام دیتے ہیں۔ یہ بحری بیڑے مشرقی ریاستہائے متحدہ میں ورجینیا کے نورفولک سے روانہ ہوتے ہیں اور مغربی ریاستہائے متحدہ میں کیلیفورنیا کے سان ڈیاگو میں مستقر ہوتے ہیں۔

ہر بیڑے میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، تقریباً تین بحری جنگی جہاز، اور کئی امدادی جہاز شامل ہوتے ہیں، مشن کی نوعیت کے مطابق ایک جوہری آبدوز بھیجی جا سکتی ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں طیارہ بردار جہاز بھیجنا کسی حتمی فوجی کارروائی کی نشاندہی نہیں کرتا، اور یہ امریکی فوج میں ایک عام اور معمول کا معاملہ ہے۔

ان کی اپنی اسٹریٹجک دستاویزات کے مطابق امریکیوں کے پاس مشنوں پر تعیناتی کے لیے چھ طیارہ بردار بحری جہاز ہمیشہ تیار ہونے چاہئیں۔ اگلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اپنی اچھی جنگی صلاحیتوں کے باوجود دنیا میں امریکی طاقت کا علامتی پہلو بھی دکھاتے ہیں، یعنی امریکی ان بیڑے بھیج کر حریفوں کو اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے بارے میں بات یہ ہے کہ اس کیریئر گروپ نے حال ہی میں بحیرہ کیریبین میں وینزویلا کے خلاف کارروائیوں کے لیے 8 ماہ کا مسلسل مشن مکمل کیا ہے، اور اس کیریئر گروپ کو ایک اور مشن پر بھیجنا جو کم از کم چار ماہ تک جاری رہے گا، یقینی طور پر جہاز کے عملے کو تھکا دے گا، اور ایسا لگتا ہے کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر، اس کیریبیئن کی دیگر صلاحیتوں کی بنیاد پر اس کیرئیر کی صلاحیت کا موازنہ کیا گیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکی ان طیارہ بردار بحری جہازوں کو خطے میں بھیج کر ایران یا کسی اور ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں؟ یہ اس کا فیصلہ مستقبل کی پیشرفت طے کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طیارہ بردار بحری جہاز میں امریکی یہ ہے کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان