امریکا کا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہاز دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
گذشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ امریکا کا پہلا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف “محدود حملوں” پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ایران پر ممکنہ محدود حملوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایرانی حکومت کے اہم مراکز کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال بھی ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کو براہِ راست دھمکیاں دی تھیں، جس سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
یہ پیش رفت خطے میں سیکیورٹی کے لیے اہم خطرے کی نشاندہی کرتی ہے اور عالمی سطح پر اس پر توجہ مرکوز ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طیارہ بردار
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔