پنجاب میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار‘ وزیراعلیٰ نے طیارہ خرید لیا‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260221-01-17
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اپنے استعمال کے لیے مہنگا اور پرتعیش طیارہ خریدنے اور عوام کی حالت زار کے باوجود حکمران طبقے کی سرکاری وسائل پر جاری عیاشیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے قومی میڈیا پر ایک ہی روز شائع ہونے والی ایک طرف حکومت پنجاب کے طیارہ خریدنے اور دوسری جانب صوبے میں غذائی قلت کا شکار بچوں اور خواتین کی تعداد میں شدید اضافہ کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں خبریں ایک ہی دن اور ایک ہی صوبے کی ہیں۔ پنجاب جہاں غذائی قلت کا شکار بچوں اور خواتین کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہورہا ہے وہاں کی وزیر اعلیٰ کے لیے 10 ارب کی لاگت سے نیا طیارہ خرید لیا گیا ہے۔ ابھی کچھ روز قبل ہی چچا وزیراعظم نے محض10 ارب روپے کی نیٹ رقم میں پی آئی اے کا پورا ادارہ بیچا اور خوب جشن منایا اور اب بھتیجی وزیراعلیٰ نے پُرتعیش اڑان کے لیے بہترین جہاز خرید لیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زاید بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب حکومت نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی پنشنز میں کٹوتی کردی ہے۔ ہزاروں اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز پرائیویٹ کرکے بالآخر جان چھڑائی جارہی ہے لیکن مجال ہے حکمرانوں کی مراعات اور عیاشیوں میں کوئی کمی آئے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں آخری 6 سال میں غربت 21.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔