Express News:
2026-06-02@20:45:09 GMT

ایک گھنی چھاؤں، جو نہ رہی

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

جانے والے چلے جاتے ہیں اور پیچھے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی تھے مصطفی لاکھانی! ہمارے ہائی کورٹ بارکے سابق صدر مصطفیٰ لاکھانی، مورخہ 14 مئی کو انتقال ہوا۔ ان کی عمر لگ بھگ اٹھاسی برس تھی۔

ستر برس کی عمر تک یہ ہائی کورٹ کی سیڑھیوں سے اترتے اور چڑھتے رہے۔ انھوں نے کئی ادوار دیکھے، وہ تمام زمانے دیکھے جب کراچی پاکستان کا کیپٹل سٹی تھا، عدالتیں دیکھیں، جج دیکھے، وکلا اور آمریتیں دیکھیں اور جمہوریتیں بھی دیکھیں۔

فاطمہ جناح کو دیکھا، جب ایم آر ڈی کی تحریک کا آغاز ہوا تو وہ کراچی ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری تھے اور عبد الحفیظ لاکھو صدر تھے، جب لا کھو صاحب جیل چلے گئے تو بارکی تمام ذمے داریاں ان کے کندھوں پر آن پڑیں۔

انھوں نے تحریک میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا، جیلوں میں قید وکلاء کی دیکھ بھال کرنا، ان سے ملنا اور پھر ان کی ضمانت کی ذمے داریاں یہ تمام کام مصطفیٰ لاکھانی نے بہ طور جنرل سیکریٹری سر انجام دیے۔

2007 میں، مشرف دور میں وکلاء تحریک کا ایک معتبر نام وہی تھے ۔ اس شخص کے گرد بار میں ، ہر وقت وکیلوں کا گھیرا رہتا تھا، ان کے مسائل سننا ، ان کے حل ڈھونڈنا، یہ روایت ان کو ان کے استاد شرف فریدی سے ملی جو مسلسل آٹھ برس کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر رہے، ایک انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔

وہ وکیلوں کے جیسے مسیحا مانے جاتے تھے، اگر ان کو یہ خبر ہو جاتی کہ کوئی وکیل مالی مشکلات سے دو چار ہے تو وہ خود فائلوں کے اندر رقم ڈال کران کے گھر تک پہنچا آتے اور ہر وقت اس بات کا تجسس کہ کوئی پریشان حال تو نہیں۔

مصطفیٰ لاکھانی اور شرف فریدی دونوں کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ ہم جیسے ان کے بچے تھے اور ہائی کورٹ بار ان کا خاندان۔ مصطفیٰ لاکھانی صاحب ایک سادہ طبعیت اور فقیر منش انسان تھے۔

ان سے مجھے باپ کی سی شفقت ملتی تھی۔ جیسے میں ان کا سپاہی اور وہ میرے سالار۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انھوں نے جیسا مجھے کرنے کے لیے کچھ کہا ہو اور وہ کام میں نے نہ کیا ہو۔

عاصمہ جہانگیر نے مجھے مصطفیٰ لاکھانی سے ملوایا، وہ انڈیپینڈنٹ لائرزگروپ (کراچی ) کے صدر تھے اور میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو وکالت میں آنے سے پہلے ہی جانتا تھا، انسانی حقوق کے حوالے سے۔ پھر مصطفی لاکھانی ہم سے ایسے جدا ہوئے کہ پتا ہی نہیں چلا، یہی سیڑھیاں اترتے چڑھتے، نہ شوگرکی بیماری اور نہ ہی بلڈ پریشرکی، دبلے پتلے سے۔

پچھلی جمعرات کو بار میں آئے، خود اپنی گاڑی چلا کر، جمعہ کو بخار ہوا اور ہفتے کو صبح دس بجے انتقال کرگئے۔ ان کوکوئی بیماری نہ تھی اور جب جانے کا وقت آیا تو ایک ہلکے سے بخار سے چل بسے۔

ہلکا سا بخار سمجھ کر نہ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے اور نہ ہی دوائی کھائی۔ اب صرف رہ گئیں ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی محبتیں، ان کا ہنسنا اور ہنسانا۔ میری باتوں سے وہ بڑے محظوظ ہوتے۔

کئی بار مصروفیت کی باعث بار نہیں جاتا تھا لیکن پھر خیال آتا کہ بار جاکر ان سے مل آؤں، چند منٹوں کے لیے جاتا تھا اور ان سے یہ کہتا تھا کہ میں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔

ان کے ہونے سے ایک تسلی رہتی تھی، چاہے کتنی ہی عمر ہو لیکن کبھی گماں نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس طرح سے چلے جائیں گے۔ وہ ہر دلعزیز تھے۔ ان کے ادب میں سب لوگ کھڑے ہوجاتے تھے۔ ان کے احترام کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک با کردار انسان تھے۔

ان کو پرکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ پتا چلا کہ وہ تو ایک فرشتہ صفت انسان تھے۔ کوئی بری عادت ان میں نظر نہیں آتی۔ نہ ہی کبھی ان کے چہرے پر غصہ دیکھا۔ ہمارے وکلاء گروپ کی بیٹھک اکثر میرے چیمبر میں ہوتی ہے۔ وہ بہ طور چیئرمین میٹنگ کی صدارت کرتے تھے۔ ان جیسے لوگ اب شاید ہی ملیں۔

تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی

سب پوچھیں تھے احوال جوکوئی درد کا مارا گزرے تھا

 وہ گجراتی میمن تھے۔ اپنے والد کے ساتھ 1948 میں ہجرت کی۔ ولبھ بھائی پٹیل اور ان کا گھر ایک ہی شہر میں نزدیک تھا۔ جب بٹوارہ ہوا تو ہندوستان میں ان کا رہنا ناممکن ہوا اور انھوں نے پاکستان ہجرت کی۔

ان کے والد جو خود بھی ایک وکیل تھے، ان سے ولبھ بھائی پٹیل کی نہیں بنتی تھی۔ وہ یہ بتاتے تھے کہ وہ ہندوستان سے اتنی عجلت میں نکلے کہ جہاز میں چڑھتے وقت ان کا تھیلا ان کے ہاتھ سے پھسل گیا اور ان کے پاس اتنا بھی وقت نہ تھا کہ وہ اس کو اٹھا سکتے۔

انھوں نے گجراتی میمن کمیونٹی اور اپنے خاندان کے حوالے سے ایک کتاب لکھی۔ پچھلے ہی برس ان کی زوجہ کا انتقال ہوا، ایک لمبی علالت کے بعد، وہ آفس سے جلدی گھر چلے جاتے، بیوی کی علالت کے باعث ہماری رات کی کسی دعوت میں نہیں آتے تھے اور ان کے انتقال کے بعد فوراً ہی اپنا گھر بھی تبدیل کر لیا۔ پھر وہ اپنے والد ین کے گھر منتقل ہوگئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

ایک گہرا تعلق رہنے کے بعد مصطفیٰ صاحب کا انتقال صرف میرا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کا بچھڑنا ہے جس کا ہرکام مفادِ عامہ کے لیے تھا، قانون کی حکمرانی اور وکلا برادری کی بہبود کے لیے تھا۔

ستر سال سے ان کے نقوش اس عدالت کی سیڑھیوں، عدالت کے برآمدوں، بار روم میں موجود ہیں۔ زمانے کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے انھوں نے۔ وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ’’ تم اپنے کالمز میںکراچی پرکم لکھتے ہو‘‘ اور میں ان کو کہتا تھا کہ ’’ میں ضرور لکھوں گا اور بہت لکھوں گا۔‘‘

مصطفی صاحب ہر تعصب سے بالا تر ہوکر بڑے فخر سے کہتے تھے کہ’’میں سندھی ہوں‘‘ نظریات کے حوالے سے ہم دونوں مختلف تھے ، ان کا جھکاؤ دائیں بازوکی سیاست کی طرف تھا جب کہ میں بائیں بازو کی سیاست کا حامی ہوں مگر انسانیت کے سبجیکٹ کی دیوار نہیں ہوتی وہ تو ہر خیال اور ہر سوچ میں پائی جاتی ہے۔

آج ہائی کورٹ بار ادھوری رہ گئی ہو جیسے۔ ایک ایسا خلاء جو بھر نہیں پائے گا۔ ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

آج ان کی یاد میں ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وکلاء کی جمہوریت کے لیے تحریک، انسانی حقوق کے لیے جدوجہد، عدلیہ کی آزادی کے بغیرکسی نسلی امتیازکے ایک ہوکر، آمریتی سوچ اور نظریے کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونا ہے۔

جاتے جاتے وہ اپنی بے لوث محبتیں چھوڑگئے۔ ان کی یادیں خوشبو بن کرکئی زمانوں تک تازہ رہیں گی۔ آج سے پچاس سال پہلے میرے والد بھی اسی بار میں آتے تھے۔

وہ بھی کیا زمانے تھے 1950کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں وکالت کرتے تھے۔ میرے چچا جو بمبئی بورڈ کے گولڈ میڈلسٹ تھے، وہ بھی کریمنل کیسز کے بڑے وکیل تھے۔ میرے چچا اس دور میں ایک نوجوان وکیل تھے اور بھٹو صاحب ان کے آرگیومنٹ سننے عدالت میں آتے تھے۔

کراچی ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت جوکہ سندھ کا ورثہ ہے،کراچی کی پہچان ہے،1923 میں بننا شروع ہوئی۔ جب سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کے عرصے میں یعنی 1929 میں ہائی کورٹ کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی، مگر آج بھی شاندار ہے۔

کتنے وکیل یہاں آئے اور اس دنیا سے رخصت ہوئے، مصطفی لاکھانی کی طرح۔

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

(غالب)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہائی کورٹ بار انھوں نے تھے اور ان کے ا کے لیے اور ان تھا کہ تے تھے

پڑھیں:

بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی  نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔

علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔

علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔   بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا 

اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔

مزید پڑھیں

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے

علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی