آسٹریلیا کی منشیات کے اسمگلرز کیخلاف خلاف نئی ٹاسک فورس تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کینبرا: آسٹریلین حکام نے ایک نئی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو منشیات کے اسمگلرز کے خلاف منظم کارروائی کرے گی۔
عالمی میڈیا کے مطابق آسٹریلین فیڈرل پولیس اور ریاست کوئنز لینڈ کی انتظامیہ جو نئی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے اس کا مقصد بحرالکاہل کے ممالک سے شمالی آسٹریلیا میں منشیات کے اسمگلرزکے خلاف منظم کارروائی کرنا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نارتھ کوئنز لینڈ جوائنٹ آرگنائزڈ کرائم ٹاسک فورس (جے او سی ٹی ایف) بحرالکاہل میں ذخیرہ کی گئی میتھامفیٹامین اور کوکین جیسی منشیات حاصل کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرے گی۔
اعلیٰ حکام کے مطابق مذکورہ ٹاسک فورس ٹوریس اسٹریٹ کے راستے اسمگلنگ میں ملوث منظم جرائم پیشہ افراد کو نشانہ بنائے گی۔ یہ آبی گزرگاہ شمالی کوئنز لینڈ اور نیوگنی کو الگ کرتی ہے اور اس اقدام کا مقصد کمزور کمیونٹیز اور آسٹریلیا کی خود مختاری کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ آسٹریلین فیڈرل پولیس کی کمشنر کریسی بیریٹ کا کہنا ہے کہ کئی سال سے بحرالکاہل میں غیر قانونی اشیا کی بڑی مقدار ذخیرہ کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ٹاسک فورس
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔