پاکستان کا افغانستان کے خلاف مؤثر جوابی اقدام، سرحدی علاقوں میں دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
دفتر خارجہ نے حالیہ خودکش حملوں کے بعد جاری اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملوں سمیت آج ماہِ رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والے واقعے کے ناقابلِ تردید شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر سرگرم خوارج عناصر نے انجام دیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے گروہ فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ دولت اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم اس ضمن میں کوئی مؤثر اور ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر حال میں اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاک افغان سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود اور ہدفی کارروائی کی، جس میں فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک عناصر کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
https://Twitter.
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی مکمل پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ انجام دی گئی تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکام پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور افغان حکام کو اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کرے۔
غیر ملکی خوارج کمانڈر ہلاکسیکیورٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ کارروائی میں ایک غیر ملکی خوارج کمانڈر الہتار کو اس دہشت گرد کیمپ میں ہلاک کر دیا گیا جہاں وہ روپوش تھا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
قرآنِ پاک سے متعلق الزامات کی تردیددفتر خارجہ نے بعض افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے حملے میں قرآنِ پاک کو نقصان پہنچنے کی تصاویر شیئر کیے جانے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تصاویر جعلی اور گمراہ کن ہیں اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے دانستہ طور پر پھیلائی جا رہی ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستانی کارروائی میں کسی مدرسے یا مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی قرآنِ پاک کو نقصان پہنچنے کا کوئی واقعہ پیش آیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس قسم کا پروپیگنڈا دہشت گرد عناصر کے بیانیے کو تقویت دینے اور عوامی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش ہے، جسے مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے پاکستان نے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔