سندھ توڑنے کا خواب اورخیال کامیاب نہیں ہوگا،مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
آپ کی سندھ کو توڑنے کی سوچ اور کراچی کو الگ کرنے کے بیانات کی مذمت کرتا ہوںِ،وزیراعلیٰ
قرارداد میں کسی پارٹی یا شخص پر حملہ نہیں کیا گیا، سارے ممبران قرارداد کو پڑھیں،اسمبلی میں خطاب
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کے بیانات کی مذمت کرتا ہوںِ۔یہ آپ ہیں جو پاکستان کو توڑنے کی بات کرتے ہیں، یہ سندھ کو توڑنے کی سوچ، خواب اور خیال بھی ہے تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بنانے والا صوبہ سندھ تھا اور اسی شہر میں سندھ اسمبلی تھی، پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی مہم چلائی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، کئی بار پہلے بھی ہو چکا ہے، 1994 میں بھی سندھ اسمبلی نے اسی خطوط پر قرارداد پاس کی تھی۔انہوں نے کہا کہ 1948 میں جب کراچی کو پاکستان کا دارالخلافہ بنایا گیا تو کوئی آئین نہیں تھا، ملک میں آئین ہوتا تو وہ فیصلہ نہیں ہوتا، ایسی کوئی بات ہوئی تو اسمبلی کی دو تہائی اکثریت نے فیصلہ کرنا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے اس قرارداد میں سندھ کی وحدت کی بات کی ہے، کراچی کی صورتحال پر بات ہوسکتی ہے، اس قرارداد کی مخالفت کا مطلب سندھ کو توڑنے کی حمایت کرنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ قرارداد میں کسی پارٹی یا شخص پر حملہ نہیں کیا گیا، سارے ممبران قرارداد کو پڑھیں، اگر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں، اگر کوئی اعتراض نہیں ہے تو قرارداد کی حمایت کریں۔انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا، اس کے بعد بھی کئی عرصے تک سندھ آزاد رہا، پھر سندھ کو ممبئی پریزیڈنسی کے تحت کر دیا گیا، سندھ کے لوگوں نے جدوجہد کر کے اس سے علیحدگی حاصل کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، پیپلزپارٹی پاکستان کی وحدت کے خلاف کبھی نہیں جائیگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ کو توڑنے مراد علی شاہ کو توڑنے کی نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔