اداروں پر الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد + پشاور (نیٹ نیوز) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدم حاضری پر سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔ عدالت نے اس کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔ ادھر سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر پرامن احتجاج کیا گیا۔ صحت پر سیاست نہیں کرتے۔ پشاور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد سیاست نہیں بلکہ بنیادی حقوق کا مطالبہ تھا۔ بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالج تک رسائی دینا قانونی حق ہے۔ تحریک انصاف عوامی طاقت اور جمہوری اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز