امریکا نے افغانستان میں جو کام ادھورا چھوڑا ہے وہ پاکستان کو مکمل کرنا ہوگا، ڈاکٹر قمر چیمہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ماہر قومی سلامتی امور ڈاکٹر قمر چیمہ نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو عالمی برادری کے لیے بھی خطرہ قرار دیدیا۔ آج افغانستان اتنا ہی خطرناک ہے جتنا وہ 2002 میں تھا۔ افغان طالبان آج بھی القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی حمایت کرتے ہیں، القائدہ کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا افغانستان نے دہشتگردوں کا رخ پاکستان کی جانب کردیا ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ یہ مطالبہ عالمی برادری کا بھی ہے، یہ مطالبہ ایران ، تاجکستان، روس اور چین بھی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو کام امریکا اور دیگر ممالک نے ادھورا چھوڑا ہے وہ کام پاکستان کو مکمل کرنا ہوگا۔ماہر قومی سلامتی امور ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ جنگ لڑنی پڑے گی اورپاکستان کی جانب سے افغانستان میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈاکٹر قمر چیمہ افغانستان میں
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔