صبا قمر نے ڈرامہ سیٹ پر پیش آنے والا پُراسرار واقعہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
نامور اداکارہ صبا قمر نے نجی ٹی وی پروگرام میں ڈراما سیٹ پر پیش آنے والا ایک ایسا پُراسرار واقعہ سنایا جس نے نہ صرف شوٹنگ ٹیم کو خوفزدہ کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی۔ اداکارہ صبا قمر نے بتایا کہ یہ واقعہ ڈرامہ سیریل معمہ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا جب ان کے میک اپ آرٹسٹ وضو کے لیے گئے تو اچانک انھیں کسی نامعلوم طاقت نے عقب سے تھپڑ مارا۔ اداکارہ کے بقول حیران کن بات یہ تھی کہ اُس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور نہ ہی میک اپ آرٹسٹ کو کچھ دکھائی دیا۔ صبا قمر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سیٹ پر خوف کی فضا قائم ہو گئی اور کئی افراد نے اسے جنات سے جڑا کوئی معاملہ قرار دیا، ممکن ہے شوٹنگ کے دوران کسی ایسی جگہ مداخلت ہوگئی ہو جو ہم انسانوں کے لیے موزوں نہ تھی۔ صبا قمر نے واضح کیا کہ وہ غیر ماورائی مخلوقات کے وجود کو یکسر رد نہیں کرتیں تاہم خوف کے باوجود شوٹنگ مکمل کی کیونکہ ڈرامے کا بڑا حصہ ریکارڈ ہو چکا تھا۔ ان کے بقول زندگی کے تجربات نے انہیں اس حد تک مضبوط بنا دیا ہے کہ اب ایسی باتیں انہیں کام سے روک نہیں سکتیں۔ صبا قمر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ افراد اسے محض اتفاق قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی صارفین اسے دلچسپ اور حیران کن واقعہ کہہ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔