مین یونیورسٹی روڈ پر ترقیاتی کام کے باعث ٹریفک کی ڈائیورشن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-02-21
کراچی( اسٹاف رپورٹر )شہر کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں K-IV پروجیکٹ کے تحت مین یونیورسٹی روڈ پر 72 انچ پانی کی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے، جس کے باعث اہم سڑک جعفری چشمہ نزد الائیڈ بینک کے قریب سے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے، تاہم اس کی وجہ سے شہریوں کو ٹریفک جام اور مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔ٹریفک ڈائیورشن کی تفصیلات کے مطابق، جو ٹریفک مین یونیورسٹی روڈ سے نیپا کی جانب حسن اسکوائر جا رہی تھی، اسے جعفری چشمہ نزد الائیڈ بینک سے سروس روڈ کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ یہ ٹریفک سروس روڈ سے ہوتے ہوئے آگے PIA پلاٹینم کے قریب پہنچ کر ایکسپو سینٹر کی سمت اور پھر پرانا سبزی منڈی اورمین سر شاہ سلیمان روڈ کی طرف روانہ ہو جائے گی۔ٹریفک پولیس نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے موقع پر موجودگی کو یقینی بنایا ہے تاکہ شہریوں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے اور کسی بھی قسم کی مزید پیچیدگیاں نہ آئیں۔شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ اس دوران متبادل راستوں کا انتخاب کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی اور زحمت سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ، شہری ٹریفک کی موجودہ صورتحال سے آگاہی کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کر سکتے ہیں اورایف ایم 88.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔