Jasarat News:
2026-07-23@23:32:13 GMT

سانجھا ائر پنجاب 11 ارب روپے کا ایک جہاز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان جیسے معاشی بحران کے شکار ملک میں، جہاں عام آدمی روٹی، کپڑا اور مکان کی آس لگائے بیٹھا ہے، پنجاب حکومت کا 11 ارب روپے کی لگژری جیٹ خریدنا نہ صرف حیران کن بلکہ قومی خزانے پر ایک کھلا ڈاکا ہے۔ 2019 ماڈل کا گلف اسٹریم GVII-G500 جیٹ، جس کی قیمت 38 سے 42 ملین ڈالر (تقریباً 11 ارب پاکستانی روپے) بتائی جاتی ہے، کو پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر اپنی مجوزہ ائر لائن ’’ائر پنجاب‘‘ کے لیے پہلا جہاز قرار دیا ہے۔ یہ خبر تو سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز (پی آئی اے) جسے 18 فعال جہازوں سمیت بیچا گیا، اس کی کل قیمت سے صرف 10 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کیے گئے اور یہاں پنجاب حکومت ایک ہی جہاز پر 11 ارب روپے خرچ کر رہی ہے! یہ موازنہ نہیں، یہ تو معاشی قتل عام ہے۔ انفارمیشن منسٹر عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں اس خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ائر پنجاب اسی سال آپریشنل ہو جائے گی اور لیز پر جہاز بھی لیے جائیں گے۔ ان کے بقول، یہ صوبائی ائر لائن داخلی راستوں کے لیے منظور ہو چکی ہے اور مستقبل میں توسیع کی پلاننگ ہے۔ لیکن کیا یہ جواز کافی ہے؟ ماہر معیشت مفتاح اسماعیل اور اپوزیشن رہنماؤں سمیت کئی ناقدین نے اسے تجارتی طور پر حماقت قرار دیا ہے۔ یہ جیٹ صرف 19 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے، جو لگژری کلاس کا ہے، نہ کہ کمرشل فلائٹس کا۔ پاکستان کی معاشی حالت دیکھیں تو پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن سے حکومت کو صرف 10 ارب روپے نقد ملے، جبکہ قرضوں کا بوجھ الگ ہے۔ ایسے میں صوبائی سطح پر لگژری ائر لائن کی بنیاد رکھنا، کیا یہ عوام کی جیب اور قومی خزانے پر ڈاکا نہیں ہے؟

اب آئیے اس معاملے کی گہرائی میں جھانکتے ہیں۔ پی آئی اے، جو قومی اثاثہ تھا، اس کی فروخت کو مجبوری بنا پیش کیا گیا تھا۔ اس کی قیمت دیکھیں: 18 مسافر بردار جہاز، انفرا اسٹرکچر اور عالمی نیٹ ورک سمیت، صرف 10 ارب روپے! پنجاب حکومت کا یہ ایک جہاز 11 ارب کا ہے، یعنی پی آئی اے کی کل قیمت سے بھی مہنگا۔ یہ اعداد و شمار خود بولتے ہیں کہ صوبائی حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں۔ عظمیٰ بخاری پنجاب حکومت کی ترجمان کہتی ہیں کہ ’’ہم ائر پنجاب بنا رہے ہیں‘‘، لیکن سوال یہ ہے کہ قومی اداروں کو برباد اور تباہ کرکے صوبائی امپائر بنانے کا کیا مطلب؟ کیا پنجاب حکومت کا کام ائر لائن چلانا، بینک قائم کرنا یا تجارتی سرگرمیاں کرنا ہے؟ ہرگز نہیں، صوبے کا کام تو صحت، تعلیم، زراعت اور انفرا اسٹرکچر کو درست کرنا ہے، نہ کہ ایوی ایشن کے مہنگے کھیل می قومی خزانہ اُڑانا۔ یہ معاملہ صرف معاشی حماقت تک محدود نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرناک گھنٹی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی سی ایل)، پی آئی اے، کو کوڑیوں کے مول بیچنے کے بعد اور اب پاکستان اسٹیل ملز جیسے اداروں کو اونے پونے بیچنے کی تیاری ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو قومی سلامتی سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ کسی بھی ملک میں ریلویز اور ائر لائنز کو مکمل طور پر نجی شعبے کے ہاتھ سونپ نہیں دیا جاتا، کیونکہ یہ قومی دفاع اور لاجسٹکس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پی آئی اے کو بیچنا ایک احمقانہ اور ملک دشمنی پر مبنی فیصلہ تھا، اس سے قومی خزانے کوکوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

اب دیکھیں پنجاب کا قدم: ایک صوبہ اپنی الگ ائر لائن بنا رہا ہے۔ اگر کل بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا بھی اپنی اپنی ائر لائنز اور ریلویز بنا لیں تو کیا ہوگا؟ یہ صوبائی نفرت اور علٰیحدگی کی طرف قدم ہے، جو ملک کو کمزور کرے گا۔ تصور کیجیے وہ دن جب ہر صوبہ اپنی اپنی ائر لائنز بنائے جیسے ’’ائر بلوچ‘‘، ’’ائر سندھ‘‘ اور ’’ائر پختون‘‘ تو ان سب کی مخالفت سب سے پہلے پنجاب کی طرف سے آئے گی لیکن پنجاب خود ایسا کرے تو جائز ہے؟ اس صورتحال میں قومی یکجہتی کیسے برقرار رہے گی؟ ہوائی راستوں پر کنٹرول کس کا ہوگا؟ ایمرجنسی میں قومی فورسز کو لاجسٹک سپورٹ کیسے ملے گی؟ یہ نہ صرف انتظامی افراتفری لائے گا بلکہ علٰیحدگی پسند عناصر کو تقویت دے گا۔ کسی نہ کسی دن کوئی صوبہ ملک سے علٰیحدگی کا اعلان کر سکتا ہے اور اس کی بنیاد یہی صوبائی ’’آزادیاں‘‘ ہوں گی۔ مرکز کو کمزور کرنا، صوبوں کو توڑنا، یہ سب سانجھا پنجاب کے نام پر ہو رہا ہے۔ یعنی بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے لوگ ثقافتی اور لسانی طور پر ایک ہیں ان کے مذہب اس معاملے میں غیر متعلق ہیں۔ پنجاب جو ہمیشہ سے قومی دھارے کا حصہ رہا، اب کیوں الگ تھلگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے؟ یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ ناقدین کی آوازیں بھی سن لیں۔ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک 19 سیٹر لگژری جیٹ کمرشل ائر لائن کے لیے فٹ نہیں‘‘۔ اپوزیشن رہنما اسے ’’غریبوں کی جیب پر ڈاکا‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے تبصرے دیکھیں: ’’پی آئی اے بیچا 10 ارب میں، پنجاب ایک جیٹ 11 ارب کا!‘‘ یا ’’عظمیٰ بخاری بتائیں، یہ ائر لائن کس کے لیے؟ ووٹرز کے لیے یا وزراء کے لگژری ٹورز کے لیے؟‘‘ یہ اعتراضات محض جذباتیت نہیں، حقائق پر مبنی ہیں۔ پنجاب حکومت کا بجٹ دیکھیں اس میں صحت اور تعلیم پر کٹوتیاں کی گئی ہیں، سیلاب متاثرین کو امداد کی کمی کی گئی اور پھر یہاں 11 ارب کے جیٹ کی خریداری کی گئی! کیا یہ ترجیحات درست ہیں؟ یہ تنقید صرف حزب اختلاف کی نہیں، بلکہ قومی مفاد کی ہے۔ یاد کیجیے 1971 کا المیہ؛ وجہ صوبائی مطالبات اور مرکز کی کمزوری تھی۔ آج بھی وہی خطرہ موجود ہے۔ سانجھا پنجاب کے نام پر تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے، دینی روایات کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ پنجاب کے حکمران بتائیں کہ یہ ائر لائن قومی سلامتی کو مضبوط کرے گی یا صوبائی نوآبادیاتی عزائم کو؟

اگر واقعی ایوی ایشن کی ضرورت ہے تو مرکز کے ساتھ مل کر پی آئی اے کو مضبوط کریں، نہ کہ اپنی الگ ائر لائنز کھولیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس خریداری کو روکے، پارلیمنٹ میں بحث ہو، اور عوامی پیسہ حکمرانوں کے تعیش پر ضائع نہ ہو۔ قومی اداروں کی نجکاری غیر ضروری تھی۔ لیکن صوبائی سطح پر اس کے برعکس سرکاری اور لائن قائم کرنا خطرناک ہے۔ پاکستان کو مضبوط مرکز اور متحد صوبوں کی ضرورت ہے، نہ کہ الگ تھلگ ریاستوں کی۔ یہ جیٹ خریداری واپس لوٹی جائے، ورنہ عوام کا غم و غصہ بڑھے گا۔ قومی سلامتی پر سمجھوتا نہ کریں، اور تاریخ انہیں معاف نہ کرے گی۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت کا قومی سلامتی ائر لائنز پی ا ئی اے پنجاب کے ارب روپے ائر لائن کہ قومی رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف