وزیراعظم پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہے،عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-4-16
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت گورنر کامران ٹیسوری کے خلاف ڈرامہ بازی کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے بجائے صدر آصف علی زرداری کو حاصل آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے گورنر کو برطرف کرنا چاہیے۔ وفاق میں وزیر اعظم بھی پیپلز پارٹی کے ووٹوں سے منتخب ہوا ہے۔ سندھ کے عوام صدر آصف علی زرداری سے سوال کرتے ہیں کہ وہ گورنر کامران ٹیسوری کو ہٹانے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ اسمبلی میں کامران ٹیسوری کے خلاف قرارداد پیش کرنا محض ڈرامہ اور دھوکہ ہے۔یہ بات عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار اور مرکزی رہنماؤں مروبت ہالیپوٹو اور نور نبی پلیجو نے اپنے بیان میں کہی۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار کی خاطر ہر سندھ دشمن اقدام میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شامل رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے چھ نہروں کی منظوری دی، مردم شماری میں سندھ کے عوام کی آبادی کم ظاہر کی گئی۔ پہلے پیپلز پارٹی نے کہا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار درست نہیں، لیکن بعد میں اقتدار کی خاطر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے جعلی ڈیجیٹل مردم شماری کے اعداد و شمار پر سی سی آئی کے اجلاس میں دستخط کر دیے۔ نہروں کے معاملے میں بھی یہی طرزِ عمل اپنایا گیا۔پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے سندھ کے جزائر وفاق کے حوالے کرنے کی کوشش کی اور دوہرے بلدیاتی نظام کی منظوری دی، تاہم سندھ کے عوام کے احتجاج کے بعد جزائر اور دوہرا بلدیاتی نظام واپس لیا گیا۔ سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور کراچی صوبے کی مہم چلانے والے کامران ٹیسوری کو صدر آصف علی زرداری نے گورنر مقرر کیا ہوا ہے۔ سندھ اسمبلی میں مراد علی شاہ کے اس اقدام کو سندھ کا باشعور عوام اچھی طرح سمجھتا ہے۔مزید کہا گیا کہ سندھ کے کچے کے علاقوں میں غیر قانونی اسلحے کی فروخت، بھتہ خوری کے لیے اغوا، ڈکیتیوں اور دیگر جرائم میں سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں کے ساتھ پولیس بھی ملوث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صدر ا صف علی زرداری کامران ٹیسوری پیپلز پارٹی سندھ کے
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.