عدالت عظمیٰ‘ آئندہ ہفتے مختلف انتخابی عذرداریاں سماعت کیلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ میں آئندہ ہفتے 2024ء، 2018ء اور 2013ء کے مختلف الیکشن معاملات سماعت کے لیے مقرر کردی گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ 27 فروری کو کیسز کی سماعت کرے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی جانب سے 2018ء میں دھاندلی کر کے جیتنے کے خلاف نوابزادہ لشکری رئیسانی کی جانب سے دائر انتخابی عذرداری سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ الیکشن ٹریبونل نے انتخابی عمل میں کرپٹ پریکٹسز ثابت ہونے پر قاسم سوری کو نا اہل قراردے دیا تھا، جس کے خلاف قاسم سوری نے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کردی تھی، عدالت عظمیٰ نے قاسم سوری کو بحال کر دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے 2022ء میں خاتمہ کے موقع پر انہوں نے اسمبلی توڑ دی تھی تاہم عدالت عظمیٰ نے اسمبلی بحال کر دی تھی، جس کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے استعفے دے دیے تھے۔ قاسم سوری کے خلاف انتخابی عذر ابھی تک عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، عدالت عظمیٰ کی جانب سے متعدد بار طلب کرنے کے باوجود قاسم سوری پیش نہیں ہوئے۔ قاسم سوری کی جانب سے سینئر وکیل نعیم بخاری پیش ہوں گے۔ بینچ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی کی جانب سے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔