تاریخ گواہ ہے قرآن پر عمل کرنے والوں نے دنیا پر حکمرانی کی، پیر عبدالرحمن قریشی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)ممتاز مذہبی اسکالر و سابق ڈائریکٹر اسلامک سینٹر آف پیرس پیر عبدالرحمن قریشی نے کہاہے نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو کس طریقے سے اپنی زندگی گزارنا ہے کن باتوں پر عمل کرنا ہے اور کن باتوں سے خود کو بچانا ہے، یہ کتاب انسان کی دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں کے لیے مشعل راہ ہے، رسول اکرم ؐنے جس معاشرے میں اللہ کا پیغام پہنچایا وہ معاشرہ قبائلی رسوم کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جب ان لوگوں نے قرآن کو فالو کیا اور اس پر عمل کیا تو انہوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق کونسلر کنٹونمنٹ بورڈ حیدرآباد اصغر علی خان یوسف زئی کے عمرے کی ادائیگی کیلیے روانگی سے قبل جامع مسجد جامعہ اسلامیہ میں منعقدہ درس قرآن و افطار ڈنر کی محفل سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباسط خان،ناظم زون وسطی سید صائم حسین،پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر نیاز چنا،اسلامک لائرز ایسوسی ایشن حیدرآباد کے صدر عبدالمعید شیخ،آزاد محسود قبائل کے رہنما ملک شوکت علی خان،پروفیسرز ایسوسی ایشن کے رہنما پروفیسر ناظم علی خان ماتیلوی،ایوان قریش حیدرآباد کے بانی و ممبر اشتیاق حسین قریشی،سینئر صحافی عبدالحفیظ عابد،ناصر شیخ،ساجد علی خان،شاہد حفیظ،نور عالم شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔پیر عبدالرحمن قریشی نے کہا کہ آج لوگ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، آج ہم اپنے بچوں کی درست تربیت پر توجہ نہیں دے رہے یہ ہی وجہ ہے کی آج معاشرے میں دین اسلام اپنی حقیقی شکل میں دکھائی نہیں دیتا، ہم بچوں کو مسجد میں آنے سے روکتے ہیں جبکہ خانہ کعبہ میں بچوں کو کھیل کود سے نہیں روکا جاتا، لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ کام ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہدایت کی روشنی صرف اپنے تک محدود نہ کرے بلکہ اس کی روشنی کو دوسروں تک پہنچانا بھی ہماری ذمے داری ہے، نیکی کو بڑھانے اور برائی کو روکنے کے لیے کام کرنا چاہیے، روزہ انسان میں تقوی کی صفت پیدا کرتا ہے یعنی پرہیز گاری سکھاتا ہے، روزہ پورے مہینے پر مشتمل تربیتی کورس ہے، اپنے نفس پر قابو پانا روزہ ہے،ر وزہ گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، اس سے انسان شہوانی خیالات اور گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔جب انسان کے اندر یہ بات مکمل جگہ بنا لے کے اللہ دیکھ رہا ہے تو پھر انسان پر چھوٹی بڑی برائی سے خود کو بچانے کی کوشش کر تا ہے اللہ تعالی ہدایت اسی کو دیتا ہے جس کو ہدایت کی طلب ہوتی ہے۔ سابق کنٹونمنٹ کونسلر اصغر علی خان یو سف زئی نے کہا کہ جس طرح زکو دینے سے مال پاک ہو جاتا ہے اسی طرح روزہ رکھنے سے جسم بھی بیماریوں سے پاک ہو جاتا ہے،روزہ اسلام کا ایک اہم رکن اور تقوی و پرہیزگاری کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یہ گناہوں سے نجات، روحانی پاکیزگی، اور جہنم سے چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ پیدا کرتا ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور یہ عبادت صبر و برداشت سکھاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی خان
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔