سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم ، کراچی علیحدگی کے خلاف قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف ر پورٹر) سندھ اسمبلی نے ہفتے کو اپنے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد منظور کرلی جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی‘ ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے‘ سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کی رکن سعدیہ جاوید نے قراردادکی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی تائید کرتی ہیں‘گورنر صاحب کراچی کو لسانیت کی طرف کیوں لیکر جانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا کہ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ سندھ ٹوٹ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ سندھ ٹوٹے گا، نہ سندھ ٹوٹنے جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے عامر صدیقی نے کہا کہ گورنر ہائوس میں ایسی کونسی غلط بات کردی گئی کہ یہ قرارداد لانے کی نوبت آگئی‘ حکومت کی کارکردگی پر بات کرنا کیا گناہ ہے‘ یہ شہر ٹیکس جمع کرتا ہے اس کے ممبر کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ قرارداد پاس کروا سکیں۔ ایم کیو ایم کے رکن طٰہٰ احمد نے کہا کہ یہ قراداد آئین کے خلاف ہے‘ آئین مزید صوبوں کے قیام کی اجازت دیتا ہے تو ہم صوبوں کی بات کیسے نہیں کر سکتے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر 1973ء کا آئین ہوتا تو1948ء والی بات نہیں ہوتی۔2019ء میں بھی سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قراداد منظور کی تھی۔اس وقت متحدہ قومی موومنٹ نے حمایت کی تھی‘ آج حمایت نہیں کر رہے تو اس کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر انعام شرجیل میمن نے کہا کہ جو بھی جائز طریقے سے اسمبلی میں پہنچے ہیں وہ قراداد کی حمایت کریں گے‘ تمام بلدیاتی نمائندے اختیارات کے تحت کام کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی نے کہا کہ
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :