پاکستان ہاکی ٹیم میں کوچز کے تنازع کا ڈراپ سین، ٹیم 24 فروری کو مصر روانہ ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لاہور:
پاکستان ہاکی میں کوچز کے تنازع کا ڈراپ سین ہوگیا۔ نئے کوچز کی نگرانی میں پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو اسلام اباد سے مصر کیلئے روانہ ہوگی۔
آٹھ سال بعد پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ میں جگہ پانے کے روشن امکانات ہیں۔ کپتان عماد بٹ نے مطالبات پورے ہونے پر خوشی کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی اوروزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری عبوری صدر ہاکی فیڈریشن محی الدین وانی معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔
عماد بٹ نے کہا کہ پرانے کوچز کی جگہ نئی ٹیم انتظامیہ کا تقررہونے پر اب ٹیم کا ماحول بہت اچھا ہے، رمضان میں رات کو ٹریننگ سیشن جاری ہے، سب کھلاڑی بہت محنت کررہے ہیں، مصر میں یکم مارچ سے سات مارچ تک ورلڈکپ کوالیفائرز میں بہترین پرفارمنس دینا ہدف ہے۔
کپتان نے مزید کہا کہ ایک لمبے وقفے کے بعد پاکستان کے پاس ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے کا یہ سنہری موقع ہے، قوم کو خوشیاں دینے کی پوری کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے۔ ماہ رمضان کی وجہ سے کھلاڑی رات کو بارہ سے سحری تک ٹریننگ کررہے ہیں۔ محی الدین وانی عبوری صدر ہاکی فیڈریشن کی حییثت سے ٹیم کے تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
مصرمیں پاکستان کو ملائیشیا، آسٹریا، چین کا چیلنج درپیش ہوگا، سیمی فائنل میں رسائی پانے کی صورت میں پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کی اہل بن سکتی ہے۔ ہاکی ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے ہالینڈ اور بیلجیم میں کھیلا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔