لاہور:پاکستان ہاکی میں کوچز کے تنازع کا ڈراپ سین ہوگیا۔ نئے کوچز کی نگرانی میں پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو اسلام اباد سے مصر کیلئے روانہ ہوگی۔

آٹھ سال بعد پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ میں جگہ پانے کے روشن امکانات ہیں۔ کپتان عماد بٹ نے مطالبات پورے ہونے پر خوشی کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی اوروزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری عبوری صدر ہاکی فیڈریشن محی الدین وانی معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

عماد بٹ نے کہا کہ پرانے کوچز کی جگہ نئی ٹیم انتظامیہ کا تقررہونے پر اب ٹیم کا ماحول بہت اچھا ہے، رمضان میں رات کو ٹریننگ سیشن جاری ہے، سب کھلاڑی بہت محنت کررہے ہیں، مصر میں یکم مارچ سے سات مارچ تک ورلڈکپ کوالیفائرز میں بہترین پرفارمنس دینا ہدف ہے۔

کپتان نے مزید کہا کہ ایک لمبے وقفے کے بعد پاکستان کے پاس ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے کا یہ سنہری موقع ہے، قوم کو خوشیاں دینے کی پوری کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے۔ ماہ رمضان کی وجہ سے کھلاڑی رات کو بارہ سے سحری تک ٹریننگ کررہے ہیں۔ محی الدین وانی عبوری صدر ہاکی فیڈریشن کی حییثت سے ٹیم کے تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔

مصرمیں پاکستان کو ملائیشیا، آسٹریا، چین کا چیلنج درپیش ہوگا، سیمی فائنل میں رسائی پانے کی صورت میں پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کی اہل بن سکتی ہے۔ ہاکی ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے ہالینڈ اور بیلجیم میں کھیلا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ورلڈ کپ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے