اپریل سے کسانوں کو مفت زمین ملنا شروع ہو جائے گی، مریم نواز کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب کی تمام قابل کاشت سرکاری زمین کسانوں کو 10 سالہ لیز پر دی جائے گی۔ ہر کسان کو 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی اور اس کے عوض کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ اپریل سے “اپنا کھیت، اپنا روزگار” سکیم کے تحت کسانوں کو مفت سرکاری زمین فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب کی تمام قابل کاشت سرکاری زمین کسانوں کو 10 سالہ لیز پر دی جائے گی۔ ہر کسان کو 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی اور اس کے عوض کسی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو زمین کے ساتھ مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ تاکہ وہ فوری طور پر کاشتکاری کا آغاز کر سکیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد زرعی شعبے کو مضبوط کرنا اور دیہی معیشت کو سہارا دینا ہے۔ واضح رہے کہ 4 فروری کو راجن پور میں الیکٹرو بس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے “اپنا کھیت، اپنا روزگار” منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت تقریباً ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی غریب اور مستحق افراد کو فراہم کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سکیم کی تفصیلات اور درخواست کا طریقہ کار جلد جاری کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فراہم کی جائے گی مریم نواز نے کسانوں کو کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔