پاکستان نے نیب چیئرمین کی تقرری کے لیے آئی ایم ایف سے پلان شیئر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے، اعلیٰ سطح کے وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے 2026 میں شائع کرنے اور اثاثوں کی خطرات پر مبنی تصدیق (رسک بیسڈ ویریفکیشن) کے نظام کو متعارف کرانے کے لیے ایک تفصیلی ایکشن پلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل پر نظرِ ثانی کی جائے گی اور اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان میں دورہ کرے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) اور 1.
اس دوران گورننس، بدعنوانی کی تشخیص اور کلیدی نگراں اداروں کے سربراہوں کی تقرری کا عمل خاص توجہ کا مرکز ہوگا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور نیب کے سربراہان کی تقرری کے قانونی فریم ورک کا جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ میرٹ پر مبنی انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین کی براہِ راست تقرری کے عمل کو مجوزہ ترمیمی بل میں ضابطہ بند کیا گیا ہے، جس میں سلیکشن کمیٹی کی تشکیل شامل ہے جو ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی اور سفارش کرے گی۔ ایس ای سی پی کے قواعد کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس میں چیئرمین، کمشنرز اور پالیسی بورڈ ممبران کی تقرری کا مکمل طریقہ کار اور مدت مکمل ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تقرری کے عمل کا آغاز شامل ہوگا۔
اسی طرح سی سی پی کے قواعد میں بھی چیئرمین اور ممبران کی تقرری کے مکمل طریقہ کار اور سالانہ گورننس و شفافیت رپورٹ کی اشاعت کو یقینی بنایا جائے گا۔ توقع ہے کہ 27 جون تک اس سے مسابقتی مارکیٹ میں شفافیت اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا، جبکہ نیب کی عوامی ساکھ اور انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات کو بھی تقویت ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کی تقرری کے چیئرمین کی کا جائزہ
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔