پاکستان سے پہلی حج پرواز 19 اپریل کو روانہ ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سرکاری سکیم کے تحت عازمین حج کو روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کی سہولت دی جائے گی۔ رواں سال ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد خوش نصیب فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سرکاری سکیم کے تحت حج تربیت کا دوسرا مرحلہ عید کے بعد شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان سے پہلی حج پرواز 19 اپریل کو جائے گی۔ سرکاری سکیم کے تحت عازمین حج کو روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کی سہولت دی جائے گی۔ رواں سال ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد خوش نصیب فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جائیں گے، جن میں گزشتہ سال حج سے رہ جانے والے عازمین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ سال حج سے رہ جانے والے بعض عازمین سے پرائیویٹ ٹریول ایجنٹس نے مزید رقم طلب کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے تحت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔