حج 2026، عالمی طرز پر خدام الحجاج کی جدید تربیت مکمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
حج 2026، عالمی طرز پر خدام الحجاج کی جدید تربیت مکمل WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) :وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2026 کو پاکستانی عازمین کے لیے تاریخ کا سہل ترین حج بنانے کی جانب بڑا قدم اٹھاتے ہوئے انڈونیشیا ، ترکیہ اور ملائیشیا کی بین الاقوامی بہترین روایات پر مبنی ’’خدام الحجاج‘‘ کی 10 روزہ جدید تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
پہلی مرتبہ پاکستانی خدام کو محض روایتی بریفنگ کے بجائے سروے آف پاکستان کے تیار کردہ ڈیجیٹل میپس، ریسکیو 1122 کی لائف سیونگ مہارتوں اور اسلام آباد پولیس کے کراؤڈ مینجمنٹ ماڈیولز کے ذریعے لیس کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عازمینِ حج کو مکہ، مدینہ اور مشاہیر (منیٰ، مزدلفہ، عرفات) میں کسی بھی مشکل کے وقت فوری اور پیشہ ورانہ مدد فراہم کرنا ہے۔ حج آپریشن شروع ہونے سے قبل خدام الحجاج کی سپیشلائزڈ ٹریننگ ہوگی۔
کوآرڈینیٹر مکہ و خدام الحجاج ذوالفقار خان نے بتایا کہ اس دفعہ ہم نے عالمی معیار کا مطالعہ کر کے ٹریننگ ماڈیولز ترتیب دیے ہیں۔ ہم نے سروے آف پاکستان کے ماہرین کو مدعو کر کے اپنے خدام کو ڈیجیٹل میپ ریڈنگ سکھائی ہے تاکہ وہ اسمارٹ فونز اور پاور پوائنٹ میپس کے ذریعے حاجیوں کی درست رہنمائی کر سکیں۔ 10 دن کی اس تربیت میں پہلی بار ریسکیو 1122 کے ذریعے سی پی آر اور ایمرجنسی طبی امداد کی ‘موک ایکسرسائزز’ کروائی گئی ہیں۔
ہم نے اس دفعہ ٹریننگ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک مشترکہ تربیت جو کہ مکمل ہوچکی ہے دوسری ‘فنکشنل لیول کی ‘ سپیشلائزڈ ٹریننگ، ہے جو حج آپریشن سے قبل مکمل کر لی جائے گی ۔ اس میں فوڈ، ٹرانسپورٹ اور بلڈنگ ٹیموں کو ان کی جاب ڈیسک کے مطابق مخصوص تربیت دی جائے گی تاکہ وہ فیلڈ میں کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔ تربیتی عمل کی شفافیت پر روشنی ڈالتے ہوئےذولفقار خان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کے ہر سیشن کے اختتام پرآن لائن کوئز کے زریعے شرکاء کی حاضر دماغی کا جائزہ لیا جاتا رہا۔
اس میں 500 سے زائد نے 100 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔ ہم نے اسلام آباد پولیس کے تعاون سے روڈ مینجمنٹ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذریعے بنیادی عربی زبان کی مشقیں بھی کروائی ہیں تاکہ وہاں زبان کا مسئلہ حائل نہ ہو۔ کوآرڈنیٹیر مکہ و خدام الحجاج ذوالفقار خان نے بتایا کہ “حج 2026 میں خواتین معاونین کی بڑی تعداد شامل ہے جو فیلڈ میں جینڈر ایکویلٹی کو یقینی بنائیں گی۔ ہم نے منیٰ کی روڈز، وہاں کے برجز اور جمرات تک جانے والے راستوں کا ‘ڈیجیٹل ویو’ خدام کو دکھایا ہے۔
ہمارا فوکس مشاہیر ایام(منی ، عرفات ، مزدلفہ) پر ہے جہاں حجاج کو سب سے زیادہ رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس 10روزہ ٹریننگ کے بعداب ہمارے معاونین وہاں کے زونز اور کیمپ لوکیشنز سے پہلے ہی پوری طرح واقف ہیں۔ذوالفقار خان نے بتایا کہ معاونین کا کردار ٹرانسپورٹ، فوڈ اور بلڈنگ مینجمنٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لئے 870 خدام الحاج جو مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب ہو کر آئے ہیں ان کی ‘اسپیشلائزڈ ٹریننگ’ شروع کریں گے جس میں انہیں بلڈنگ ریڈی کرنے، روم الاٹمنٹ اور ‘نسک کارڈ’ کی تقسیم کا عملی طریقہ سکھایا جائے گا۔
اس بار مدینہ سے مکہ کے لیے ٹرین سروس اور مشاہیر کے لیے مخصوص بسوں کا نظام بنایا گیا ہے جو حجاج کے ساتھ ہی رہیں گی تاکہ ٹریفک کے دباؤ سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار وزارت نے “ناظم سکیم” کے تحت حجاج کو گھر سے گھر تک کی سہولت دینے کا عزم کیا ہے۔یہ ناظم پاکستان سے 188 عازمین حج کے ساتھ ایک ہی پرواز میں مدینہ یا مکہ پہنچیں گے وہاں سے یومیہ کی عبادات ، مدینہ سے مکہ روانگی ، مشاہیر ایام اور واپسی پاکستان تک یہ ناظمین اس گروپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
اس دفعہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر 23 ہزار پاکستان حجاج کرام کو مدینہ سے مکہ اور مکہ سے مدینہ ٹرین کے زریعے 2 گھنٹوں میں پہنچایا جائے گا اس کے لئے بھی ہم نے اپنے خدام کو تربیت فراہم کی کہ کس طرح کس پلیٹ فارم سے اتر کر آگے کہاں جانا ہے تا کہ باآسانی منزل تک پہنچا جاسکے۔
اس تربیت میں خدام الحاج کو سکھایا گیا کہ کیسے “صلوٰت ٹرانسپورٹ” کے زریعے نمازوں کے اوقات کار کے دوران حجاج کو ان کی بلڈنگ سے براہِ راست حرم کے مختلف ڈراپ پوائنٹس تک پہنچایا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ مذہبی امور کی یہ جدید تربیت اس بات کی نوید ہے کہ 2026 کا حج نہ صرف روحانی طور پر بلکہ انتظامی طور پر بھی ایک رول ماڈل ثابت ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزار کا سخت ردعمل پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مزید بڑھنے لگے، علیمہ خان کے انٹرویو پر شاندانہ گلزار کا سخت ردعمل شدید فوجی دباؤ کے باوجود ایران امریکا کے سامنے نہ جھکا، ٹرمپ کی مایوسی بڑھ گئی برطانیہ: مسجد کے باہر چاقو حملہ، پاکستانی نژاد نوجوان جاں بحق چھٹا بین الاقوامی طلبہ کنونشن و ایکسپو 2026، اسلام آباد میں 4 تا 6 مئی کو منعقد ہوگا صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے اہم پیشرفت سعودی عرب کا 299واں یومِ تاسیس: مملکت بھر میں شاندار تقریبات، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکتCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خدام الحجاج جدید تربیت
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔