خضدار اور بارکھان میں مسلح افراد کے حملے، 11 مزدور اغوا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بلوچستان کے اضلاع خضدار اور بارکھان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے 2 مختلف واقعات میں نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے 11 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔
مزید پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرالیا، 2 دہشتگرد ہلاک
پولیس کے مطابق ہفتہ کی شام خضدار کے علاقے مولہ میں تعمیراتی کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کے کیمپ پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے کیمپ میں موجود 8 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔
اغوا ہونے والوں کی شناخت گل شیر، غلام سرور، عبدالمالک بگٹی، مولانا بخش، محمد عرفان اور اختیار کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق مغوی مزدوروں میں سے 3 کا تعلق سندھ جبکہ 5 کا تعلق ضلع خضدار سے ہے۔
دوسری جانب ضلع بارکھان کے علاقے ڈھولا ندی کے قریب سڑک پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے کرش پلانٹ پر بھی مسلح افراد نے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق 20 سے زیادہ مسلح افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع پر پہنچے اور 3 مزدوروں کو اغوا کرکے قریبی پہاڑی علاقے کی طرف فرار ہو گئے۔
مغوی مزدوروں کا تعلق بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل سے بتایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: اغواکاروں نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت قتل کردیا
ترجمان بلوچستان پولیس شہزادہ فرحت نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خضدار کے علاقے مولہ سے 8 افراد کو مسلح افراد اغوا کرکے لے گئے، اغوا ہونے والوں میں سے 3 کا تعلق سندھ سے تھا جبکہ 5 مقامی افراد تھے جبکہ بارکھان سے 3 مقامی افراد کو اغوا کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان دہشتگرد مزدور اغوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگرد مزدور اغوا وی نیوز مسلح افراد کا تعلق کو اغوا
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔