ممکنہ جنگ، ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے جانشین مقرر کردیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی میڈیا کے مطابق ایران ممکنہ جنگ سے نمٹنے کیلئے تیاریوں میں مصروف ہے، سپریم لیڈر نے زیادہ تر اختیارات نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا سے مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں، سپریم لیڈر کو لاریجانی پر مکمل اعتماد ہے۔ علی خامنہ ای نے 4 سطحوں پر مشتمل اپنے جانشین بھی مقرر کردیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی صورت میں اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جاسکتی ہے، اعلیٰ قیادت ماری گئی تو عبوری انتظام میں لاریجانی سرفہرست ہیں، باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کا نام بھی عبوری انتظام کیلئے زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کردیے گئے ہیں، صدر پزشکیان بظاہر اختیارات لاریجانی کو سونپنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو لاریجانی سے اجازت مانگی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔