وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (CPUs) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں یونٹس کی تعداد بڑھ کر 24 ہو جائے گی۔
اس اہم فیصلے کے تحت خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے لیے مجموعی طور پر 119.86 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 57 ملین روپے ’’گڈ گورننس روڈ میپ‘‘ کے تحت نئے یونٹس کے قیام پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ 62.
سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذر حسین شاہ نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے نظام میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہیں۔
ان کے مطابق قانون کے تحت ہر ضلع میں یونٹ کا قیام لازمی ہے اور حکومت مرحلہ وار تمام اضلاع تک اس نظام کو توسیع دے گی۔
چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان نے بتایا کہ فنڈز کے اجراء کے بعد ای ٹی ای اے کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا تاکہ نئے یونٹس کو فوری طور پر فعال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہر یونٹ میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، سوشل کیس ورکر اور ماہرِ نفسیات تعینات ہوں گے جو بچوں کو مکمل کیس مینجمنٹ اور قانونی معاونت فراہم کریں گے۔
حکام کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن یونٹس نہ صرف متاثرہ بچوں کو فوری امداد فراہم کریں گے بلکہ عوامی آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور نچلی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے بچوں کو تشدد، استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے جامع نظام تشکیل دیں گے
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔