ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنماؤں میں اختلافات کے تاثر کو ختم کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجانے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہورہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات موجود ہیں اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت پر شدید تنقید کی جارہی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد میں گزشتہ روز دو الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے جس میں اہم رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ گزشتہ دنوں لیاقت آباد میں جلسہ عام اور گورنر ہاؤس میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کے علاوہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان اسمبلی ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجانے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہورہا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات موجود ہیں اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت پر شدید تنقید کی جارہی تھی۔ ذرائع نے کہا کہ پارٹی میں اختلافات کے تاثر کو زائل کرنے کیلئے پارٹی کے مرکزی رہنما پھر ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نظر آرہے ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ 48 گھنٹوں میں صورتحال میں واضح تبدیلی نظر آنے کے امکانات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان کے میں اختلافات
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔