آزاد جموں و کشمیر پولیس میں انسپکٹر جنرل کے عہدے پر نسبتاً جونیئر افسر کی تعیناتی کے بعد ادارے کے اندر سینیارٹی اور میرٹ سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ 6 سینیئر ڈپٹی انسپکٹر جنرلز نے باضابطہ طور پر وزیراعظم سے رجوع کر لیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے گزشتہ اتوار کو پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) کے گریڈ 20 کے افسر ریٹائرڈ کیپٹن لیاقت علی ملک کو آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پی تعینات کیا گیا تھا، وہ 33ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارکان اسمبلی کے پاس خلاف ضابطہ گاڑیوں کا معاملہ، محتسب آزاد کشمیر نے واپس لینے کا حکم دیدیا

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، لیاقت علی ملک کی تقرری 1949 کے معاہدہ کراچی کی شق ہشتم کے تحت عمل میں آئی، جنہوں نے منگل کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد جمعرات کو وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے ملاقات بھی کی۔

سینیئرافسران کے تحفظات

آزاد کشمیر پولیس کے 6 سینیئر ڈی آئی جیز نے وزیراعظم کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی سروس مدت زیادہ، تعلیمی اسناد اعلیٰ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر تجربہ وسیع ہے۔

ان کے مطابق نسبتاً جونیئر افسر کو اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کرنا سروس روایات سے انحراف ہے جس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کمانڈ اسٹرکچر متاثر ہو سکتا ہے۔

افسران نے مؤقف اپنایا کہ اس فیصلے سے میرٹ، سروس میں انصاف اور ادارے کے مورال پر سوالات اٹھے ہیں، اس لیے پیشہ ورانہ معیار اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اس پر نظرثانی کی جائے۔

1949 کے معاہدہ کراچی کی شق ہشتم کیا کہتی ہے؟

شق ہشتم کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر حکومت کو دیے گئے افسران کی خدمات غیر رسمی طور پر حکومتِ آزاد کشمیر کے سپرد کی جاتی ہیں، جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت انہیں سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے باضابطہ تعینات کرتی ہے۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 1949 کے انتظام کے تحت اس وقت وفاق کو آئی جی پی تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، جب مقامی طور پر موزوں افسران دستیاب نہیں تھے۔

تاہم 1980 کی دہائی کے اواخر میں آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کی براہ راست بھرتیاں شروع ہوئیں، جنہوں نے وفاقی افسران کے ساتھ کامن اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام مکمل کیے۔

سینیارٹی کا معاملہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 33ویں سی ٹی پی میں ریٹائرڈ کیپٹن لیاقت علی ملک کے ساتھ شامل آزاد کشمیر پولیس کے 6 افسران میں سے ایک ڈی آئی جی جبکہ 5 سینیئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اسی طرح 23ویں سی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے 5 افسران میں ایک ایڈیشنل آئی جی (گریڈ 21) اور 4 ڈی آئی جیز (ٹائم اسکیل گریڈ 21) ہیں، جبکہ 30ویں سی ٹی پی کے 4 افسران بھی بطور ڈی آئی جی تعینات ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

رپورٹ کے مطابق 6 ڈی آئی جیز نے بدھ کے روز وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے ملاقات میں مؤقف اختیار کیا کہ سینiئر افسران کو نظر انداز کرنا نہ صرف سروس فیئرنیس کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی مختلف ذرائع سے مطالبہ کیا کہ تعیناتی پر نظرثانی کرتے ہوئے کسی موزوں اور سینiئر پی ایس پی افسر تعینات کیا جائے, ذرائع کے مطابق بعض افسران نے احتجاجاً دفاتر میں حاضری سے بھی گریز کیا۔

چیف سیکریٹری کا مؤقف

دوسری جانب چیف سیکریٹری خوشحال خان نے وضاحت کی کہ صوبائی پولیس سروسز کے برعکس آزاد کشمیر پولیس سروس کی سینیارٹی اور کیڈر اسٹرکچر پی ایس پی کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔

ان کے مطابق صوبائی پولیس افسران گریڈ 19 میں ترقی کے بعد پی ایس پی میں ضم ہو جاتے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر پولیس افسران سروس کی اپنی علیحدہ درجہ بندی میں ترقی پاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر، پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، سردار تبارک علی مسلم لیگ (ن) میں شامل

انہوں نے مزید کہا کہ کامن اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ کا مقصد صلاحیتوں میں اضافہ اور پیشہ ورانہ تربیت ہے، نہ کہ سینیارٹی کا تعین۔

چیف سیکریٹری نے امید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر پولیس کے افسران نئے آئی جی پی کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اسی محنت اور دیانت سے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے نئے آئی جی پی کو شاندار سروس ریکارڈ کا حامل افسر قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر پولیس آزاد کشمیر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن چیف سیکریٹری خوشحال خان شق ہشتم فیصل ممتاز راٹھور کمانڈ اسٹرکچر لیاقت علی ملک میرٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آزاد کشمیر پولیس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن چیف سیکریٹری خوشحال خان فیصل ممتاز راٹھور کمانڈ اسٹرکچر لیاقت علی ملک آزاد کشمیر پولیس لیاقت علی ملک چیف سیکریٹری آئی جی پی ڈی آئی جی پی ایس پی پولیس کے کے مطابق سی ٹی پی کے ساتھ پولیس ا کیا کہ کے بعد

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع