پیپلزپارٹی کی سیاست اِدھرہم، اُدھرتم سے شروع ہوتی ہے،خالد مقبول
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پیپلزپارٹی کی سیاست اِدھرہم،اُدھرتم سے شروع ہوتی ہے،چیئرمین ایم کیوایم
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کل سندھ اسمبلی میں غیر آئینی قرارداد منظور ہوئی۔ کیاکوئی صوبہ آئین سے متصادم قرار داد منظور کرسکتا ہے۔
بہادر آباد مرکز کراچی میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی سیاست اِدھرہم،اُدھر تم سے شروع ہوتی ہے۔۔ ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت سندھ پر قابض ہے۔
خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ کہ جنوبی پنجاب اورہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے۔ پیپلزپارٹی پہلے ہی کراچی کوٹکڑے ٹکڑے کرچکی ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین جو کہ ایک زندہ دستاویز ہے اس پرمکمل عمل کیا جائے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے روگردانی کررہی ہے، آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہےجو پورے پاکستان کےلئےہے، سندھ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلزپارٹی کی
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔